ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 191

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۱ جلد نهم نے ان کے ساتھ کیا ہے کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دی ہے اور تمام معز ز عہدوں پر ان کو ممتا ز کیا ہے اور دفاتر ان سے بھر دیئے ہیں اور پھر اس سلوک کو دیکھا جائے جو کہ اب انہوں نے گورنمنٹ کے ساتھ کیا ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ گورنمنٹ کے صرف بدخواہ ہی نہیں بلکہ نمک حرام بھی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کی فطرت میں یہ بدی ہے کہ اپنے محسن کے ساتھ ایسی بدسلوکی کریں ۔ فرمایا۔ میں نے اس کو صلاح دی ہے کہ تم اپنا تعلق آریوں سے بالکل علیحدہ کرلو۔ - ایک شخص کی درخواست پیش ہوئی کہ میری ہمشیرہ کی منگنی ناجائز وعدہ کو توڑ ناضروری ہے موت سے ایک غیر احمد کے ساتھ ہوچکی ہے اب اس کو قائم رکھنا چاہیے یا نہیں؟ فرمایا۔ ناجائز وعدہ کو توڑنا اور اصلاح کرنا ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ شہد نہ کھائیں گے ۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایسی قسم کو توڑ دیا جاوے۔ علاوہ ازیں منگنی تو ہوتی ہی اسی لیے ہے کہ اس عرصہ میں تمام حسن و فتح معلوم ہو جاویں ۔ منگنی نکاح نہیں ہے کہ اس کو توڑنا گناہ ہو۔ مجالس مشاعره ایک جگہ بعض شاعرانہ مذاق کے دوست ایک با قاعدہ انجمن مشاعرہ قائم کرنا چاہتے تھے اس کے متعلق حضرت سے دریافت کیا گیا۔ فرمایا۔ یہ تضیع اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جاویں اور لوگ شعر بنانے میں مستغرق رہیں ۔ ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سنائے یا کسی اخبار میں چھپوائے ۔ ہم نے اپنی کتابوں میں کئی نظمیں لکھی ہیں مگر اتنی عمر ہوئی آج تک کبھی کسی مشاعرہ میں شامل نہیں ہوئے۔ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کوئی شاعری میں اپنا نام پیدا کرنا چاہے۔ ہاں اگر حال کے طور پر نہ صرف قال کے طور پر اور جوش روحانی سے اور نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو مخلوق کے لیے مفید ہو سکتی ہو لکھی جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ مگر یہی پیشہ کر لینا ایک منحوس کام ہے۔ لے لے بد ر جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۷ جون ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷ نیز الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۳ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۷ صفحه ۳ لو