ملفوظات (جلد 9) — Page 190
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۰ جلد نهم ساتھ خطبہ اور نماز جمعہ پڑھتے بھی ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ احتمال ہے کہ جمعہ ہوا یا نہیں اس واسطے ظہر کی نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس کا نام احتیاطی رکھا ہے۔ ایسے لوگ ایک شک میں گرفتار ہیں۔ ان کا جمعہ بھی شک میں گیا اور ظہر بھی شک میں گئی ۔ نہ یہ حاصل ہوا نہ وہ ۔اصل بات یہ ہے کہ نماز جمعہ پڑھو اور احتیاطی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اے ۸ / جون ۱۹۰۷ء (بوقت عصر ) استخارہ کی اہمیت فرمایا کہ آجکل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سنت کو ترک کر دیا ہے۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ امر میں استخارہ فرمالیا کرتے تھے ۔ سلف صالحین کا بھی یہی طریق تھا۔ چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لیے لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں در نہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا نقصان اٹھاتے ہیں۔ اصل میں یہ استخارہ ان بد رسومات کے عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتدا سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اسے بھول گئے حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے۔ جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ بعض لوگ کوئی کام خود ہی اپنی رائے سے شروع کر بیٹھتے ہیں اور پھر درمیان میں آکر ہم سے صلاح پوچھتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں جس علم و عقل سے پہلے شروع کیا تھا اسی سے نبھا ئیں ۔ اخیر میں مشورے کی کیا ضرورت ؟ کے ۱۱ جون ۱۹۰۷ ء آر آریوں کی فطرت فرمایا۔ ہمارا ایک پرانا واقف ہندو ہے اس کا خط آیا تھا کہ آریہ لوگ کی در در اصل گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں۔ سرکار کو غلط فہمی ہوئی۔ میں نے اسے خط لکھا ہے یہ تمہاری غلطی ہے کہ آریہ سرکار کے خیر خواہ ہیں ۔ اس سلوک کو دیکھا جائے جو گورنمنٹ بدر جلد ۶ نمبر ۲۳ مورخه ۶ رجون ۱۹۰۷ ء صفحه ۸ ۲ بدر جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخه ۱۳ / جون ۱۹۰۷ ء صفحه ۳