ملفوظات (جلد 9) — Page 7
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد نهم برخلاف چلیں تو یہ کفر ہوگا۔ اس زمانہ میں جیسا کہ علماء کے درمیان بہت سے فرقے بن گئے ہیں ایسا ہی فقراء کے درمیان بھی بہت سے فرقے بن گئے ہیں۔ اور سب اپنی اپنی باتیں نئے طرز کی نکالتے ہیں ۔ تمام زمانہ کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے ۔ اسی واسطے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں وہ مجدد بھیجا ہے جس کا نام مسیح موعود رکھا گیا ہے اور جس کا انتظار مدت سے ہورہا تھا اور تمام نبیوں نے اس کے متعلق پیشگوئیاں کی تھیں اور اس سے پہلے زمانہ کے بزرگ خواہش رکھتے تھے کہ او وہ اس کے وقت کو پائیں ۔ لے ۱۸ رنومبر ۱۹۰۶ء دفع شر کے لیے باطنی تدابیر اس بات کا ذکر تھا کہ بعض شہروں میں جہاں طاعون کا خوف تھا۔ گورنمنٹ چوہے مروانے کا انتظام کر رہی ہے اور ایک اخبار والے نے جو سناتن ہندو ہے اور کسی جی کا مارنا گناہ سمجھتا ہے اس تجویز کی اس پیرایہ میں تردید کی ہے کہ چونکہ چوہوں میں طاعون کا مادہ ہوتا ہے اس واسطے ان کو پکڑنا اور مارنا خود بخود طاعون کے رڈی مادہ کو منتشر کرنا ہے۔ حضرت نے فرمایا۔ یہ ظاہری تدابیر ہیں مگر جب تک باطنی تدبیر نہ کی جاوے طاعون کا اس ملک سے جانا ناممکن ہے۔ ممکن ہے کہ جیسا کہ اس اخبار والے نے لکھا، طاعونی چوہوں کو پکڑنا اور ہاتھ لگانا وغیرہ بھی کسی حد تک ضرر رساں ہو۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ سب حیلے کیمیا گروں کے سے خیال ہیں کہ شاید اس بوٹی سے سونا بن جاوے۔ شاید اس سے سونا بن جاوے۔ خدا تعالیٰ اس وقت شمشیر برہنہ لے کر کھڑا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کے وجود پر ایمان لائے۔ جب تک دنیا کے لوگ اپنی بدکاریوں اور ضد اور تعصب اور فحش گوئی کو چھوڑ کر اور خدا تعالیٰ کے نشانات کی تحقیر سے تو بہ کر کے نیکی اختیار نہ کر لیں تب تک خدا تعالیٰ اس عذاب کو ان کے سر سے دور نہ کرے گا۔ تعجب ہے کہ ہماری گورنمنٹ ظاہری اسباب کو لیتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتی۔ پہلے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۶ مورخه ۱۵ رنومبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵،۴