ملفوظات (جلد 9) — Page 6
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد نهم دوسری طرف آر یہ ہیں کہ ان کے نزدیک گناہ معاف ہی نہیں ہو سکتے ۔ سور اور کتنے بلّے ہی ہمیشہ بنتے چلے جاؤ۔ عیسائیوں نے تو یہ رکھی تو ایسی کہ اخلاق انسانی کا ہی ستیا ناس کر دیا۔ زنا کرو۔ چوری کرو۔ خیانت کرو۔ جھوٹ بولو۔ بس مسیح کفارہ ہو گئے ۔ چلو چھٹی ہوئی ۔ آریہ کہتے ہیں جب انسان گناہ کر چکا تو ہزار پچھتائے ، ہزار روئے گناہ معاف ہو ہی نہیں سکتا ۔ ایک ادنی مالک اپنے نوکر کو معاف کر سکتا ہے پر خدا کی لغات میں معافی کا لفظ ہی نہیں ۔ اسلام نے ان دونوں کے درمیان صحیح اور سچی راہ دکھائی ہے کہ انسان جب دل سے پشیمان ہوتا اور اپنے رب رب کی طرف جھکتا ہے تو رفتہ رفتہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اور ایک گناہ سوز محبت اس کے کاروبار میں اثر دکھاتی ہے۔ ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کے تابع ہے، بغیر اس کی اطاعت کے ہرگز کچھ بن نہیں سکتا۔ اب تو لوگ ہماری باتوں پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے کہنے سے تو نہیں سمجھتے مگر زمانہ خود ان کو سمجھائے گا۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ جو صوفیوں نے بنایا ہوا ہے کہ توجہ کے واسطے حَسْبُنَا كِتَبُ اللهِ اس طرح بیٹھنا چاہیے اور پھر اس طرح دل پر چوٹ لگانی چاہیے اور ذکر اڑہ اور دیگر اس قسم کی کتا بیں ۔ کیا یہ جائز ہیں؟ فرمایا۔ یہ جائز نہیں ہیں بلکہ سب بدعات ہیں ۔ حَسْبُنَا كِتب الله ۔ ہمارے واسطے اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب سلوک کے واسطے کافی ہے جو باتیں اب ان لوگوں نے نکالی ہیں یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں ہرگز نہ تھیں ۔ یہ صرف ان لوگوں کا اختراع ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ ہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) صادق کی صحبت میں رہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سے امور میں مشکلات آسان ہو جاتی ہیں ۔ شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ بڑے خدارسیدہ اور بڑے قبولیت والے انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جس نے خدا کا راہ دیکھنا ہو وہ قرآن شریف کو پڑھے اب اگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ طریق پر کچھ بڑھائیں اور نئی باتیں ایجاد کریں یا اس کے