ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 132

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۲ جلد نهم کی کون سی بات رہ گئی ہے۔ اس لیے ہر ایک عورت کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین خدمت میں لگی رہے اور د رہے اور دیکھو کہ عورت جو کہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے۔ ۔ اگر ا وہ اس کی خدمت کرتی ہے تو وہ اس کی پرورش کرتا ہے مگر والدین تو اپنے بچہ سے کچھ نہیں لیتے وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی جوانی تک اس کی خبر گیری کرتے ہیں اور بلا کسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں اور جب وہ جوان ہوتا ہے تو اس کا بیاہ کرتے اور اس کی آئندہ بہبودی کے لیے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بوجھ آپ اٹھانے اور آئندہ زمانہ کے لیے کسی کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے تو کس خیال سے اس کی بیوی اس کو اپنے ماں باپ سے جدا کرنا چاہتی ہے یا کسی ذراسی بات پر سب وشتم پر اتر آتی ہے اور یہ ایک ایسا نا پسند فعل ہے جس کو خدا اور مخلوق دونوں نا پسند کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر دو زمہ داریاں مقرر کی ہیں ۔ ایک حقوق اللہ اور ایک حقوق العباد۔ پھر اس کے دو حصے کئے ہیں یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسرے مخلوق الہی کی بہبودی کا خیال ۔ اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سسر کی خدمت اور اطاعت ۔ پس کیا بد قسمت ہے وہ جو ان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق عباد اور حقوق اللہ دونوں کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے۔ کسی لڑکی کا نام جنت تھا۔ کسی شخص نے کہا کہ یہ نام اچھا نہیں کسی نام سے بری فال لینا کیونکہ بعض وقت انسان آواز مارتا ہے کہ جنت گھر میں ہے؟ اور اگر وہ نہ ہو تو گو یا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے۔ یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہا جائے کہ گھر میں برکت نہیں تو گو یا نحوست ہوئی ۔ یا فرمایا۔ یہ بات نہیں ہے۔ نام کے رکھنے سے کوئی ہرج نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے تو اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اندر نہیں ہے نہ یہ کہ برکت نہیں یا اگر کہے کہ جنت نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت نہیں اور دوزخ ہے بلکہ یہ کہ وہ انسان اندر نہیں جس کا نام جنت ہے۔