ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 121

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد نهم ہے۔ پھر علیحدہ ہو کر اپنے دل میں اس بدظنی کو بڑھاتا رہتا ہے اور ایک رائی کے دانے کو پہاڑ بنا لیتا ہے اور اپنی بدظنی کے مطابق اس کینے کو زیادہ کرتا رہتا ہے۔ یہ سب بغض نا جائز ہیں۔ لله بغض ہم بھی بعض دفعہ کی پر ناراض ہوتے ہیں۔ مگر ہماری ناراضگی دین دین کے واسطے اور اللہ کے لیے ہے جس میں نفسانی جذبات کی ملونی نہیں اور دنیوی خواہشات کا کوئی حصہ نہیں ہمارا بغض اگر کسی کے ساتھ ہے تو وہ خدا کے واسطے ہے اور اس واسطے وہ بغض ہمارا نہیں بلکہ خود خدا کا ہی ہے کیونکہ اس میں کوئی ہماری نفسانی یا دنیوی غرض نہیں ۔ ہم کسی سے کچھ لینا نہیں چاہتے نہ کسی یا سے کوئی خواہش رکھتے ہیں۔ جوش نفسانی اور للہی جوش میں فرق کے واسطے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے سبق حاصل کرو۔ حضرت علی کا ایک سبق آموز واقعہ لکھا ہے کہ حضرت علی کا ایک کافر پہلوان کے ساتھ جنگ شروع ہوا۔ بار بار آپ اس کو قابو کرتے تھے وہ قابو سے نکل جاتا تھا۔ آخر اس کو پکڑ کر اچھی طرح سے جب قابو کیا اور اس کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور قریب تھا کہ خنجر کے ساتھ اس کا کام تمام کر دیتے کہ اس نے نیچے سے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ جب اس نے ایسا فعل کیا تو حضرت علیؓ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا اور الگ ہو گئے ۔ اس پر اس نے تعجب کیا اور حضرت علیؓ سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر تکلیف کے ساتھ پکڑا اور میں آپ کا جانی دشمن ہوں اور خون کا پیاسا ہوں پھر با وجود ایسا قابو پا چکنے کے آپ نے مجھے اب چھوڑ دیا۔ یہ کیا بات ہے؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی ذاتی عداوت نہیں۔ چونکہ تم دین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں کو دکھ دیتے ہو اس واسطے تم واجب القتل ہو اور میں محض دینی ضرورت کے سبب تم کو پکڑتا تھا۔ لیکن جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا اور اس میں مجھے غصہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ اب نفسانی بات در میان میں آگئی ہے اب اس کو کچھ کہنا جائز نہیں تا کہ ہمارا کوئی کام نفس کے واسطے نہ ہو۔ جو ہو سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہو۔ جب میری اس حالت میں تغیر آئے گا اور یہ غصہ دور ہو جائے گا تو پھر وہی سلوک