ملفوظات (جلد 9) — Page 120
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۰ جلد نهم حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی، با بو غلام محمد صاحب لاہور سے آکر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت اقدس ملاقات کے واسطے قریب دس بجے صبح کے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور قریب دو گھنٹہ کے تشریف فرمار ہے۔ چند آدمیوں نے بیعت کی اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی ۔ دو ایک دوستوں کے درمیان کسی دنیوی امر پر اختلاف اور باہمی رنج کا ذکر تھا۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ دیکھو! آجکل موسم کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور ایک غیر معمولی تغییر زمانے کی حالت میں نظر آتا ہے آسمان ہر وقت غبار ناک رہتا ہے گویا کہ وہ بھی اداس ہو رہا ہے۔ چاہیے کہ آپس میں جلد صفائی کر لیں ۔ معلوم نہیں کہ کس کی موت آجائے ۔ میں تو یہ بھی سننا نہیں چاہتا کہ اختلاف کی کیا باتیں ہیں ۔ معلوم نہیں کہ کس کی زندگی ہے اور کون اس سال میں مر جائے گا۔ جب تک کہ سینہ صاف نہ ہو دعا قبول نہیں ہوتی ۔ اگر کسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینے میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی ۔ اس بات کو اچھی طرح سے یا د رکھنا چاہیے اور دنیوی معاملہ کے سبب کبھی کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھنا چاہیے۔ اور دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو۔ شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے۔ ایسا کہ وہ اس بات کو بھی ناگوار رکھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں ۔ ان میں سے ایک قضائے کا رفوت ہو گیا ۔ اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دیکھ کر دنیا کے انجام کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور اتنا رویا کہ اس کی قبر کی مٹی کو تر کر دیا اور پھر اس کی قبر کو درست کرا کر اس پر لکھوایا۔ مکن شادمانی بمرگ کسے کہ دہرت پس از وے نماند بسے خدا کا حق تو انسان کو ادا کرنا ہی چاہیے مگر بڑا حق برادری کا بھی ہے جس کا ادا کرنا نہایت مشکل ہے۔ ذراسی بات پر انسان اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ سخت کلامی کی