ملفوظات (جلد 9) — Page 117
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۷ جلد نهم عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ ہمارے مسلمان سلاطین کا ذکر ہے کہ جب کوئی بلا آتی تھی تو بادشاہ خود دعا وزاری بدرگاہ رب العالمین کرتے تھے اور رعیت کو نیکیوں کی طرف رغبت دلاتے تھے۔ جب ٹیکہ لگایا جانا شروع ہوا تو میں نے کتاب کشتی نوح لکھی تھی اور اس میں میں نے ظاہر کیا تھا کہ اس ٹیکہ سے جو میں آسمانی ٹیکہ پیش کرتا ہوں بہتر ہے۔ آخر وہی بات سچی ثابت ہوئی جو ہم نے پیش کی تھی۔ شاید کسی کو کسی وقت سمجھ آجاوے۔ طاعون تو اب ہاتھ دھو کر لوگوں کے پیچھے ہو پڑی ہے۔ قادیان کے کسی شخص کا ذکر ہوا کہ فلاں جگہ طاعون ہے اور وہ وہاں بار بار جا تا رہا۔آخر وہ طاعون میں گرفتار ہو کر مر گیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ جبکہ ایک جگہ آگ برستی ہے تو اس جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مخالفین کا مباہلہ باہلہ فرمایا ۔ اس ملک کے کئی ایک آدمی جو ہمیں گالیاں دیتے رہتے تھے اور پیچھا نہ چھوڑتے تھے ۔ جب ان کی مدت نزدیک آئی تو خود ہی انہوں نے مباہلہ کر لیا کہ یا الہی ! ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس کو ہلاک کر دے آخر وہ خود ہی ہلاک ہو کر ہماری سچائی پر مہر کر گئے ۔ ایسا ہی ابو جہل نے بدر کے دن نبی علیہ السلام سے مباہلہ کیا تھا۔ ابوجہل نے کہا تھا کہ جو ہم دونوں میں سے قطع رحم کرنے والا اور مفسد ہواے خدا ! اس کو آج ہلاک کر دے۔ آخر خدا تعالیٰ نے ابو جہل کو اسی دن ہلاک کر دیا اور اس کی دعا قبول ہو کر اس پر ہی پڑی۔ بلا تاریخ قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے سوال کیا کہ دسویں محرم کو شربت اور چاول کی تیم محرم دسویں کو جو شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے الحکم جلد ا ا نمبر ۹ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱،۱۰