ملفوظات (جلد 9) — Page 2
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد نهم وہ اصل حقیقت سے آگاہ تھیں کہ خدا تعالیٰ نے سلسلہ مکالمات اور مخاطبات کو تو بند نہیں کر دیا۔ البتہ کوئی شریعت آنحضرت کے بعد نہیں اور نہ کوئی شخص ہو سکتا ہے کہ آنحضرت کی وساطت کے سوائے براه راست خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے ۔ گوشت خوری ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ایک ہندو کے ساتھ گوشت خوری کے متعلق اپنی گفتگو کا ذکر کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فعل سے استدلال کرنا چاہیے۔ دنیا میں جیسا کہ ہزاروں نباتات ہیں اور مختلف ضرورتوں کے واسطے انسان کی خدمت کے واسطے کارآمد ہیں ۔ ایسا ہی ہزاروں جانور بھی ہیں جو کہ انسان کی بہت سی ضرورتوں کے واسطے کارآمد ہوتے ہیں اور ضرورتاً ہندو لوگ بھی استعمال کرتے ہیں بیماری کے وقت مچھلی کا تیل پیتے ہیں۔ علاوہ ازیں گوشت خور قو میں ہمیشہ فاتح رہی ہیں ۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ذکر کیا کہ راولپنڈی میں ایک ہندو ہماری خاطر خربوزے لایا اور ان کو تراش کر اور صاف کر کے اور مصری لگا کر ہمارے آگے رکھا اور گوشت خوری کے مسئلہ کو پیش کیا۔ میں نے کہا کہ ہم تو گوشت نہیں کھاتے جیسا کہ ہم گھاس بھی نہیں کھاتے دیکھو ہم خربوزہ بھی نہیں کھاتے۔ کیونکہ اگر ہم خربوزہ کھانے والے ہوتے تو تم کو یہ کانٹ چھانٹ نہ کرنی پڑتی ۔ کچھ تم نے اوپر سے کاٹ کر پھینک دیا اور کچھ اندر سے نکال کر پھینک دیا۔ پھر جو درمیان میں رہا اس پر بھی مصری لگائی اور ایک مرکب مصفی چیز بنا کر ہمارے آگے رکھی ۔ اس مرکب کو ہم کھاتے ہیں ۔ ایسا ہی انسان گوشت خور بھی نہیں بلکہ ایک معجون مرکب کو کھاتا ہے جو کئی ایک مصالحہ جات اور گھی اور گوشت وغیرہ سے مل کر بنتا ہے۔ میر صاحب ناصر نواب نے فرمایا کہ اگر گوشت خوری گناہ ہوتا تو ہزاروں لاکھوں بھیڑ بکریاں جو کہ ذبح کی جاتی ہیں ان کے سبب سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی انسان پر وارد ہوتی ۔ کیونکہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کبھی کسی بادشاہ یا قوم