ملفوظات (جلد 8) — Page 60
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد هشتم اب آپ غور کریں کہ کیا یہ امر انسانی طاقت کے اندر ہے کہ پچیس تیس برس پہلے ایک واقعہ کی اطلاع دے۔ اور وہ بھی اسی کے متعلق اور پھر اسی طرح پر وقوع بھی ہو جاوے۔ انسانی ہستی اور زندگی کا تو ایک منٹ کا بھی اعتبار نہیں اور نہیں کہہ سکتے کہ دوسرا سانس آئے گا یا نہیں ۔ پھر ایسی خبر دینا یہ کیونکر اس کی طاقت اور قیاس میں آسکتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ میں بالکل اکیلا تھا اور لوگوں سے ملنے سے بھی مجھے نفرت تھی اور چونکہ ایک وقت آنے والا تھا کہ لاکھوں انسان میری طرف رجوع کریں اس لئے اس نصیحت کی ضرورت پڑی لَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمْ منَ النَّاسِ اور پھر انہیں دنوں میں یہ بھی فرمایا۔ اَنْتَ مِی بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي - فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ ۔ یعنی وہ وقت آتا ہے کہ تیری مدد کی جاوے گی اور تو لوگوں کے درمیان شناخت کیا جاوے گا۔ اسی طرح پر فارسی - عربی اور انگریزی میں کثرت سے ایسے الہامات ہیں جو اس مضمون کو ظاہر کرتے ہیں ۔ اب سوچنے کا مقام ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا کا خوف رکھتے ہیں کہ اس قدر عرصہ دراز پیشتر ایک پیشگوئی کی گئی اور وہ کتاب میں چھپ کر شائع ہوئی۔ براہین احمد یہ ایسی کتاب ہے جس کو دوست دشمن سب نے پڑھا۔ گورنمنٹ میں بھی اس کی کاپی بھیجی گئی۔ عیسائیوں ہندوؤں نے اسے پڑھا۔ اس شہر میں بھی بہتوں کے پاس یہ کتاب ہوگی وہ دیکھیں کہ اس میں درج ہے یا نہیں؟ پھر وہ مولوی ( جو محض عداوت کی راہ سے مجھے دجال اور کذاب کہتے ہیں اور یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ) شرم کریں اور بتائیں کہ اگر یہ پیشگوئی نہیں تو پھر اور پیشگوئی کس کو کہتے ہیں؟ یہ وہ کتاب ہے جس کاریو یو مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے کیا ہے۔ چونکہ وہ میرے ہم سبق تھے اس لئے اکثر قادیان آیا کرتے تھے۔ وہ خوب جانتے ہیں۔ اور ایسا ہی قادیان، بٹالہ، امرتسر میں اور گردنواح کے لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اس وقت میں بالکل اکیلا تھا اور کوئی مجھے جانتا نہ تھا۔ اور اس وقت کی حالت سے عند العقل دوراز قیاس معلوم ہوتا تھا کہ میرے جیسے ایک گمنام آدمی پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لاکھوں آدمی اس کے