ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد هشتم گوارا نہیں کرتے تھے کہ ترقیات نصیب ہوں مگر وہ خدا جو ہمیشہ اپنے بندوں کی حمایت کرتا ہے اور جس نے راستبازوں کو غالب کر کے دکھایا ہے اُس نے میری حمایت کی اور میرے مخالفوں کے خلاف ان کی اُمیدوں اور منصوبوں کے بالکل برعکس اس نے مجھے وہ قبولیت بخشی کہ ایک خلق کو میری طرف متوجہ کیا جو ان مخالفتوں اور مشکلات کے پردوں اور روکوں کو چیرتی ہوئی میری طرف آئی اور آرہی ہے۔ اب غور کا مقام ہے کہ کیا انسانی تجویزوں اور منصوبوں سے یہ کامیابی ہو سکتی ہے کہ دنیا کے با رسوخ لوگ ایک شخص کی ہلاکت کی فکر میں ہوں اور اس کے خلاف ہر قسم کے منصوبے کئے جاویں اس کے لئے خطر ناک آگ جلائی جاوے مگر وہ ان سب آفتوں سے صاف نکل جاوے؟ ہر گز نہیں ! یہ خدا کے کام ہیں جو ہمیشہ اس نے دکھائے ہیں۔ پھر اسی امر پر زبردست دلیل یہ ہے کہ آج سے ۲۵ برس پیشتر جبکہ کوئی بھی میرے نام سے واقف نہ تھا اور نہ کوئی شخص قادیان میں میرے پاس آتا تھا یا خط و کتابت رکھتا تھا اس گمنامی کی حالت میں ان کس مپرسی کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرما یا يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ - يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ - لَا تُصَغِرْ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِنَ النَّاسِ - رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ یہ وہ زبر دست پیشگوئی ہے جو ان ایام میں کی گئی اور چھپ کر شائع ہو گئی ۔ اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے اسے پڑھا۔ ایسی حالت اور ایسے وقت میں کہ میں گمنامی کے گوشہ میں پڑا ہوا تھا اور کوئی شخص مجھے نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے پاس دور دراز ملکوں سے لوگ آئیں گے اور کثرت سے آئیں گے اور اُن کے لئے مہمانداری کے ہر قسم کے سامان اور لوازمات بھی آئیں گے۔ چونکہ ایک شخص ہزاروں لاکھوں انسانوں کو مہمانداری کے جمیع لوازمات مہیا نہیں کر سکتا اور نہ اس قدر اخراجات کو برداشت کر سکتا ہے اس لئے خود ہی فرما یا یأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اُن کے سامان بھی ساتھ ہی آئیں گے اور پھر انسان کثرت مخلوقات سے گھبرا جاتا ہے اور ان سے کج خلقی کر بیٹھتا ہے۔ اس لئے اس سے منع کیا کہ ان سے کج خلقی نہ کرنا۔ اور پھر یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جانا ۔