ملفوظات (جلد 8) — Page 322
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۲ ترجمه فارسی از صفحه نمبر ۱۸۸ ۱۸۹ ۲۰۷ ۲۴۵ ۲۵۴ ۲۹۷ ۲۹۷ ۲۹۷ ۲۹۷ ۲۹۷ ۲۹۸ ۲۹۸ جلد هشتم تو چاہتا ہے کہ دنیا بھی پالے اور خدا کو بھی پالے، ایسی سوچ واہمہ ،محال اور پاگل پن ہے۔ اگر تو لوگوں کے مرتبہ کا دھیان نہیں رکھتا تو تو بے دین ہے۔ دنیا چند روزہ ہے بالآخر خدا تعالیٰ سے ہی کام پڑتا ہے ۔ بیمار دانت کا علاج دانت نکلوانا ہی ہے۔ جاہل کا انجام جہنم ہوتا ہے کیونکہ جاہل کا خاتمہ بالخیر کم ہی ہوتا ہے۔ میرے پاس نہ زہد ہے، نہ عبادت ، نہ خدمت نہ کوئی کام صرف ایک بات ہے کہ میری جان اس دلدار کے پاس گروی پڑی ہوئی ہے۔ اس کے چہرہ میں ایسی لذت ہے کہ جان اس پر قربان ہے اس کی گلی میں عجب لطف ہے اگر چہ وہاں خون کی بارش ہوتی ہے۔ خدا نے جب میرا یہ حال دیکھا تو مجھے مسیح الزمان بنا دیا اب تو میرے دعوے کے دلائل دیکھ گو ( تیرے نزدیک ) یہ بیکار ہیں ۔ میں عشق کا علاج نہیں چاہتا کیونکہ اس میں ہماری ہلاکت ہے ہماری شفا تو اسی رنج و درد اور بیماری میں ہے۔ اگر تو مرد ہے تو مولی کا راستہ طلب کر اس مردار ( دنیا ) کے پیچھے دن رات کیا روتا رہتا ہے۔ اگر وہ اب مجھ سے منہ موڑ لیں تو میں ناراض نہیں کیونکہ رسم ورواج کا چھوڑنا بہت مشکل کام ہے۔ آسمان کو دیکھ کہ سورج اور چاند سیاہ ہو گئے (خسوف کسوف سے ) اور زمین ڈرانے کے لئے طاعون پیدا کر رہی ہے۔