ملفوظات (جلد 8) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود دوکان پر بیٹھا تھا اچانک موت آگئی ۔ علیحدہ رہتا تھا۔ جلد هشتم دوسرے لوگوں نے ذکر کیا کہ نیک آدمی تھا۔ دنیا وی دھندوں جھگڑوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا حضرت نے فرمایا۔ وہ تو دنیوی تعلقات پہلے ہی چھوڑ کر اور ہجرت کر کے قادیان میں آبسا تھا۔ لے بلا تاریخ ایک شخص نے سوال کیا کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو نماز میں بے حضوری کا علاج مجھے حضور قلب حاصل نہیں ہوتا۔ کیا ا صورت میں میری نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ انسان کی کوشش سے جو حضور قلب حاصل ہوسکتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمان وضو کرتا ہے اپنے آپ کو کشاں کشاں مسجد تک لے جاتا ہے نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ یہاں تک انسان کی کوشش ہے اس کے بعد حضور قلب کا عطا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ انسان اپنا کام کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ بھی ایک وقت پر اپنی عطا نازل کرتا ہے۔ نماز میں بے حضوری کا علاج بھی نماز ہی ہے۔ نماز پڑھتے جاؤ۔ اسی سے سب دروازے رحمت کے کھل جاویں گے۔ سے ۲۸ اکتوبر ۱۹۰۶ء (صبح کی سیر ) عليه الصلواة قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقوی ہے حضرت اقدس علیہ ا ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۲۵ را کتوبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۴ والسلام یہ معلوم کر کے کہ غالباً اکتوبر ۱۹۰۶ ء کے ابتدائی ایام کے یہ ملفوظات ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب (مرتب) سے بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۱۳