ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 297

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۷ جلد هشتم ماہ ستمبر ۱۹۰۶ء رساله تشحیذ الاذہان بابت ماہ ستمبر به خدا تجھے خوش رکھے اسے تشخید الاذہان والے اور میں اس سے این اینڈ ۱۹۰۶ ء میں اس کے لائق ایڈیٹر نے حضرت مسیح موعود کے چند پرانے اشعار جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوئے اور ایک پرانی تحریر مسیح موعود کی شائع کی ہے۔ حضرت مہدی کی اس قسم کی تحریروں کا تحفہ پبلک کے سامنے پیش کرنا ایک ایسا قابل شکر گذاری کار نمایاں ہے کہ رسالہ تشحیذ الا ذہان کا سالہا سال کا چندہ اس ایک نظم اور مضمون پر قربان ہو سکتا ہے۔ احباب کو چاہیے کہ اس رسالہ کے واسطے خریدار کثرت سے پیدا کریں۔ کیونکہ یہ ایک قیمتی شے ہے۔ ہم ذیل میں وہ نظم اور مضمون نقل کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس معزز مخدوم کو خوش رکھے۔ نے ہم ہیں۔ جس نے مسیح موعود کی خوشی کے ذرائع ہم کو سنائے ہیں ۔ غزل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مرا نہ زہد و عبادت نہ خدمت و کاری است ہمیں مرا است که جانم رہیں دلداری است چه لذتی است بر ویش که جان فدایش باد چه راحتی است بکویش اگر چه خون بارے است مسیح وقت مرا کرد آنکه دید ایں حال به بین دلائل دعوے اگرچہ بیکاری است دوائے عشق نہ خواہم کہ آں ہلاکت ما است شفاء ما بہ ہمیں رنج و درد و آزاری است اگر مردی چه نالی روز ره مولی طلب کن و شب از بهر مردار