ملفوظات (جلد 8) — Page 294
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد هشتم کبھی یہ کام پورا نہیں ہو سکتا۔ ہمارے بے وقوف مخالف نادانی کے ساتھ مسیح کو آسمان پر چڑھائے بیٹھے ہیں اور خیال نہیں کرتے کہ اتنے عرصہ تک اس نا معقول عقیدہ نے کیا فساد ڈالا ہے جو آئندہ اس عقیدہ فاسدہ کی پیروی سے ان کو کچھ حاصل ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ علیم اور حکیم اور عمیق اور دقیق باتوں کا واقف کار ہے۔ اس کی حکمت نے جو راہ اختیار کی ہے۔ اسی پر چلنے سے اسلام کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ یسوع تو خود داغی ہو چکے کہ ان کے نام پر اس قدر شرک ہوتا ہے۔ اب ان کی آمد میں اسلام کے واسطے کوئی فائدہ کی صورت نہیں بن سکتی۔ اسلام کے واسطے بیرونی اور اندرونی فساد اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ظاہری عقل کے مطابق تو اب یاس اور نا امیدی کے سوائے اور کچھ باقی نہیں ہے۔ دین کی اشاعت کے لیے جو سامان اور طاقتیں عیسائیوں کے پاس ہیں کہ ایک ایک کتاب کو کئی کئی لاکھ چھاپتے ہیں اور مفت تقسیم کرتے ہیں وہ بات مسلمانوں کو کہاں حاصل ہے؟ یہاں تو ایک چھوٹا رسالہ چھا اپنا ہو تو اس کے واسطے بھی سامان بمشکل حاصل ہوتا ہے۔ غرض ظاہری دولت اور طاقت اور سعی کے ذریعہ سے ہم فتح نہیں پاسکتے ۔ بلکہ ہمارا ہتھیار ہے صرف دعا اور توجہ الی اللہ ۔ یہ بھاری مہم صرف دعا کے عظیم الشان ذریعہ سے سر ہے سر ہوگی ہوتی ۔ ڈاکٹر عبد الحکیم نادانی سے اعتراض کرتا ہے کہ یہ ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کیوں ایسا نہیں کرتے کہ شہر بشہر گشت کریں۔ یہ اس کی غلطی ہے۔ اگر میں جانتا کہ ملکوں میں پھرنے سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے تو میں ضرور ہی ایسا کرتا۔ حدیث شریف میں دجال کے متعلق آیا ہے کہ لا يَدَانِ لأَحَدٍ لِقِتَالِهِمْ ۔ اس کے ساتھ جنگ کرنے کے ہاتھ کسی کے پاس نہ ہوں گے۔ زمینی اسباب کے ساتھ ہم اس دجل کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ زمینی اسباب خود اس کے پاس بہت ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی ایسا اعلیٰ ہتھیار ہونا چاہیے جو اس کے پاس نہ ہو تب تو ہم فتح پا سکتے ہیں۔ آجکل مخلوق پر دنیا کی حب حد سے زیادہ غالب ہے۔ اس کو ہم نکالنا چاہتے ہیں اور اسی کو نکالنا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ لکھا ہے کہ سب سے آخر جو چیز نفس سے نکلتی ہے وہ دنیا کی محبت ہے۔ بجز ایک آسمانی طاقت کے ہمارے واسطے کوئی کامیابی کی راہ نہیں۔