ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 293

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۳ جلد هشتم ان کو دکھ دیا اور مقدمہ بنایا اور سخت مخالفت کی اور بالآخر صلیب پر چڑھا کر چھوڑا ۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو کفار عرب نے ہرگز اس کی مخالفت نہ کی نہ اس کو ستایا نہ رکھ دیا بلکہ کئی لاکھ آدمی اس کے ساتھ ہو گئے۔ برخلاف کو دیا اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت سخت تکلیفیں دیں اور شہر سے نکال دیا۔ قتل کے منصوبے باندھے اور ہر طرح کی ایزا کے درپے رہے۔ یہی ہمیشہ سے سنت اللہ جاری ہے کہ سچے کے ساتھ ایک دو جھوٹے مدعی بھی کھڑے ہوتے ہیں ۔ سچا با وجود سخت مخالفتوں کے کامیاب ہو سکتا ہے اور جھوٹا با وجود اس کے کہ اس کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی ناکام اور نامراد مرتا ہے ایسا ہی ہمارے زمانہ میں بھی ہمارے دعوے کے ساتھ کئی ایک جھوٹھے مدعی الہام اور وحی الہی کے پیدا ہوئے ہیں۔ جن میں سے بعض نہایت نامرادی کے ساتھ مر بھی گئے ہیں جیسا کہ لاہور میں ایک شخص مہدی ہونے کا دعویدار تھا۔ ان کی کوئی مخالفت نہیں کرتا ۔ لاہور میں ایک شخص ملا محمد بخش بھی الہام کا مدعی ہے۔ اپنے الہامات شائع کرتا ہے۔ کوئی اس کی مخالفت میں اشتہار نہیں دیتا۔ نہ اس کو ستایا جاتا ہے نہ دکھ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے لیکن ہمارے مقابلہ میں شیطان کو ہلاکت نظر آتی ہے۔ اس واسطے وہ لوگوں کو مخالفت کے لیے جوش دلاتا ہے یہی قدیم سے خدا تعالیٰ کی سنت چلی آتی ہے۔ صادق کی مخالفت سخت ہوتی ہے تا کہ اس کی کامیابی ایک بڑا نمایاں اشتہار ہو۔ ور ستمبر ١٩٠٦ء لے مسیح موعود کا کام فرمایا۔ ہمارے سامنے جوکام آیا ہے وہ آسان نہیں بلکہ نہایت مشکل کام ہے۔ ہمارے دو کام ہیں۔ اندرونی طور پر قوم کو درست کرنا اور تقویٰ و طہارت کا گمشدہ راستہ ان کو دوبارہ دکھانا اور اس پر چلانا اور دوسرا بیرونی حملوں کو روکنا اور کسر صلیب کرنا۔ یہ ہر دو کام ایسے مشکل ہیں کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے خاص معجزہ نما کاموں کے معمولی انسانی کوششوں سے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۶ ر ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۴