ملفوظات (جلد 8) — Page 277
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۷ جلد هشتم ہے اور اپنے اندر کوئی گناہ نہ دیکھتا تو اس کے دل میں تکبر پیدا ہوتا جو تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور شیطان کا گناہ ہے۔ شیطان نے گھمنڈ کیا کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اسی واسطے وہ شیطان بن گیا۔ گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے وہ نفس کو توڑنے کے واسطے ہے۔ جب انسان سے گناہ ہوتا ہے تو وہ اپنی بدی کا اقرار کرتا ہے اور اپنے عجز کو یقین کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔ جس طرح مکھی کے دو پر ہیں کہ ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں تریاق ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر تمہارے کھانے پینے کی چیز میں مکھی پڑے تو وہ اپنا صرف ایک پر اس کے اندر ڈ بوتی ہے جس میں زہر ہے پر تم اس کو نکالنے سے پہلے اس کا دوسرا پر بھی ڈبولو کہ وہ اس کے بالمقابل تریاق ہے۔ یہ مثال انسان کے گناہ اور توبہ کی ہے۔ اگر گناہ صادر ہو جاوے تو تو بہ کرو کہ وہ اس کے واسطے تریاق ہے اور گناہ کے زہر کو دور کر دیتی ہے۔ عاجزی اور تضرع سے خدا تعالیٰ کے حضور میں جھکوتا کہ تم پر رحم کیا جاوے۔ اگر گناہ نہ ہوتا تو ترقی بھی نہ ہوتی ۔ جو شخص جانتا ہے کہ میں نے گناہ کیا ہے اور اپنے آپ کو ملزم دیکھتا ہے وہ خدا کی طرف جھکتا ہے تب اس پر رحم کیا جاتا ہے اور وہ ترقی پکڑتا ہے۔ لکھا ہے۔ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ - گناہ سے تو بہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں ۔ لیکن تو بہ سچے دل کے ساتھ ہونی چاہیے اور نیت صادق کے ساتھ چاہیے کہ انسان پھر کبھی اس گناہ کا مرتکب نہ ہوگا۔ گو بعد میں یہ سبب کمزوری کے ہو جاوے لیکن تو بہ کرنے کے وقت اپنی طرف سے یہ پختہ ارادہ اور سچی نیت رکھتا ہو کہ آئندہ یہ گناہ نہ کرے گا۔ نیت میں کسی قسم کا فساد نہ ہو بلکہ پختہ ارادہ ہو کہ قبر میں داخل ہونے تک اس بدی کے قریب نہ آئے گا۔ تب وہ تو بہ قبول ہو جاتی ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان میں ڈالتا ہے تا کہ ان کو انعام دیوے۔ انعام حاصل کرنے کے واسطے امتحانوں کا پاس کرنا ضروری ہے ۔ نماز کے اندر دعا فرمایا۔ نماز کے اندرہی اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔ سجدہ میں ، بیٹھ کر، رکوع میں ، کھڑے ہو کر ہر مقام پر اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعائیں کرو۔ بیشک پنجابی زبان میں دعائیں کرو۔ جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں