ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 276

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۶ جلد هشتم خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق بدل نہیں ڈالے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ صرف ایک خشک لکڑی کی طرح ہیں جس کے ساتھ کوئی پھل نہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں ۔ اگر پہچانتے تو ان پر ضرور برکات نازل ہوتے مگر اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور یہ بڑی قوت والوں کا کام ہے اور خدا کے اختیار میں ہے جس کو چاہے قوت عطا فرمادے اگر انسان تلاش میں لگا رہے تو ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اس کو قوت عطا ہو جائے ۔ استقامت شرط ہے ہمت کے ساتھ خدا کو تلاش کرو تو اسے پالوگے۔ بلا تاریخ گناہ اور ان کی بخشش ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ دنیا میں لوگ بہت گنہگار ہوں گے مگر میرے جیسا گنہگار تو کوئی نہ ہوگا۔ میں نے بڑے بڑے سخت گناہ کئے ہیں ۔ میری بخشش کس طرح ہوگی ؟ حضرت نے فرمایا ۔ دیکھو! خدا جیسا غفور الرحیم کوئی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کہ وہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے اور بخش دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دنیا بھر میں کوئی گنہگار نہ رہے تو میں ایک اور اُمت پیدا کروں گا جو گناہ کرے اور میں اس کے گناہ بخش دوں۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام غفور ہے اور ایک رحیم ۔ یا د رکھو کہ گناہ ایک زہر ہے اور ہلاکت ہے۔ مگر تو بہ اور استغفار ایک تریاق ہے ۔ قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة : ٢٢٣) اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پیار کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاک ہو جاویں۔ خدا تعالیٰ نے ہر ایک شے میں ایک حکمت رکھی ہے ۔ اگر آدم گناہ کر کے تو بہ نہ کرتا اور خدا کی طرف نہ جھکتا تو صفی اللہ کا لقب کہاں سے پاتا ؟ اگر کوئی انسان ایسا اپنے آپ کو دیکھتا کہ جیسا ماں کے پیٹ سے نکلا الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۶ ، ۱۹۰۱ صفحه ۹ ہے قیاس ہے کہ غالباً یہ جولائی ۱۹۰۶ ء کے دوسرے ہفتہ کی ڈائری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مرتب)