ملفوظات (جلد 8) — Page 238
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۸ جلد هشتم بھی کبھی کبھی کوئی مذاق کی بات فرمایا کرتے تھے اور بچوں کو بہلانے کے لیے اس کو روا سمجھتے تھے۔ جیسا کہ ایک بڑھیا عورت نے آپؐ سے دریافت کیا کہ حضرت کیا میں بھی جنت میں جاؤں گی؟ فرمایا نہیں ۔ وہ بڑھیا یہ سن کر رونے لگی۔ فرمایا روتی کیوں ہے؟ بہشت میں جوان داخل ہوں گے بوڑھے نہیں ہوں گے یعنی اس وقت سب جوان ہوں گے ۔ اسی طرح سے فرمایا کہ ایک صحابی کی داڑھ میں درد تھا ۔ وہ چھوارا کھاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوارا نہ کھا کیونکہ تیری داڑھ میں درد ہے ۔ اس نے کہا میں دوسری داڑھ سے کھاتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ ایک بچہ کے ہاتھ سے ایک جانور جس کو تغیر کہتے ہیں چھوٹ گیا۔ وہ بچہ رونے لگا۔ اس بچہ کا نام عمیر تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا عُمَيْرُ مَا فَعَلَتْ بِكَ نُغَيْرُ ؟ اے عمیر تغیر نے کیا کیا ؟ لڑکے کو قافیہ پسند آ گیا۔ اس لیے چپ ہو گیا۔ ایک بچہ کی خبر لگی کہ اس نے کوئی شرارت کی ہے یعنی آگ سے بچوں کو تنبیہ کرنا ضروری ہے کچھ جلا دیا ہے۔ فرمایا۔ بچوں کو تنبیہ کر دینا بھی ضروری ہے اگر اس وقت ان کو شرارتوں سے منع نہ کیا جاوے تو بڑے ہو کر اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ بچپن میں اگر لڑکے کو کچھ تادیب کی جاوے تو وہ اس کو خوب یا د رہتی ہے کیونکہ اس وقت حافظہ قوی ہوتا ہے۔ ایک دن حضور علیہ پیار تھے۔ ایک شخص کو چیزیں واک کی سےلا ایک دن حضور علیہ السلام بیمار تھے۔ ایک شخص کو کچھ چیزیں فواکہ کی قسم سے لانے کے اظہار تشکر لی امرتسر بھیجا۔ جب وہ آیا تو اس وقت حضرت کی طبیعت زیادہ نا ساز تھی اس وقت ایک میوہ کی خواہش ہوئی جو اس شخص سے منگوایا تھا۔ لیکن وہ امرتسر سے نہیں لایا تھا۔ تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ قاضی نظیر حسین صاحب تحصیلدار تشریف لائے اور وہی پھل ساتھ لائے۔ آپ نے فرمایا۔ ہمارے گھر کے لوگوں کو ان چیزوں کے کھاتے وقت خیال کرنا چاہیے کہ آج لے نوٹ از ایڈیٹر ۔ اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت صاحب بچوں کو ہر وقت مارنے اور جھڑکتے رہنے سے بھی سخت منع کرتے ہیں۔ ہر ایک کام ایک اندازہ تک ہونا چاہیے۔ مندرجہ بالا ذکر سے مراد حضور علیہ السلام کی یہ ہے کہ بچہ کو بالکل آوارہ نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔