ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 224

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۴ جلد هشتم ایسے وقت جبکہ بالکل تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ جیسا کہ فرمایا إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر : ٢) ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں جس سے بد بد قسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو ایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک و تا ر تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی ۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ اس نے فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريت : ۵۷) پھر جب انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے۔ ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔ پس إِنَّا أَنْزَلْتُهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دلیل ہے اور انجام الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لکھ میں فرمادیا۔ گویا یہ باب نبوت کی دوسری فصل ہے ۔ اکمال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اتار دیں بلکہ تکمیل نفس اور تطہیر قلب کی ۔ وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقلمند اور با اخلاق انسان اور پھر با خدا انسان بنادیا اور تطہیر نفس، تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کرا دیئے ۔ اور اسی طرح پر کتاب اللہ کو بھی پورا اور کامل کر دیا۔ یہاں تک کہ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن شریف میں نہ ہو۔ میں نے اگنی ہوتری کو بارہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتاؤ جو قرآن شریف میں نہ ہومگر وہ نہ بتا سکا۔ ایسا ہی ایک زمانہ مجھ پر گذرا ہے کہ میں نے بائبل کو سامنے رکھ کر دیکھا۔ جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں وہ تمام سچائیاں مستقل طور پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں ۔ وہ قرآن شریف پر تدبر ہی نہیں کرتے اور نہ ان کے دل میں کچھ عظمت ہے۔ ورنہ یہ تو ایسا فخر کا مقام ہے کہ اس کی نظیر دوسروں میں ہے ہی نہیں ۔ غرض الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ (المائدۃ: ۴) کی آیت دو پہلو رکھتی تکمیل دین کا مبارک دن معرض الا ہے۔ ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا۔ دوئم کتاب مکمل کر چکا۔ کہتے ہیں جب یہ آیت اتری وہ جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی یہودی نے کہا کہ اس