ملفوظات (جلد 8) — Page 223
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۳ جلد هشتم غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت ایسی واضح اور روشن ہے کہ کسی دوسرے نبی کا زمانہ ایسی نظیر نہیں رکھتا ۔ اب دوسرا حصہ دیکھو کہ آپ فوت نہیں ہوئے جب تک الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) کی آواز نہیں سن لی ۔ اور إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا (النصر : ۲ ، ۳) کا نظارہ آپ نے نہیں دیکھ لیا۔ یہ آیت نہ توریت میں ہے نہ انجیل میں۔ توریت کا تو یہ حال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام راستہ ہی میں فوت ہو گئے اور قوم کو وعدہ کی سرزمین میں داخل نہ کر سکے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کہتے ہیں کہ بہت ہی باتیں بیان کرنے کی تھیں۔ کیا قرآن شریف میں بھی ایسا لکھا ہے؟ وہاں تو أَكْمَلْتُ لَكُمْ ہے۔ رہی ان کی تکمیل ۔ صحابہ کی جو تکمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خودان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ الآية - (الاحزاب: ۲۴) اور پھر ان کی نسبت رضی اللہ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (البينة : 9) فرمایا۔ لیکن انجیل میں مسیح کے حواریوں کی جو تعریف کی گئی ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ جا بجا ان کو لالچی اور کم ایمان کہا گیا ہے اور عملی رنگ ان کا یہ ہے کہ ان میں سے ایک نے تیس روپیہ لے کر پکڑوادیا۔ اور پھر ایک نے سامنے لعنت کی ۔ انصاف کر کے کہو کہ یہ کیسی تکمیل ہے۔ اس کے بالمقابل قرآن شریف صحابہ کی تعریف سے بھرا پڑا ہے۔ اور ان کی ایسی تکمیل ہوئی کہ دوسری کوئی قوم ان کی نظیر نہیں رکھتی ۔ پھر ان کے لیے اللہ تعالی نے جزا بھی بڑی دی۔ یہاں تک کہ اگر با ہم کوئی رنجش بھی ہوگئی تو اس کے لیے فرمایا وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلَّ الآية ( الحجر : ۴۸) حضرت عیسیٰ نے بھی حواریوں کو تختوں کا وعدہ دیا تھا مگر وہ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ بارہ تختوں کا وعدہ تھا مگر یہودا اسکر یوطی کا ٹوٹ گیا جب وہ قائم نہ رہا تو اوروں کا کیا بھروسہ کریں۔ مگر صحابہؓ کے تخت قائم رہے۔ دنیا میں بھی رہے اور آخرت میں بھی ۔ غرض یہ آیت اليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ مسلمانوں کے لیے کیسے فخر کی بات ہے۔ لیلۃ القدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا زمانہ اب ان باتوں کو ملا کر غور کرو کہ آپ آئے