ملفوظات (جلد 8) — Page 186
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۶ جلد هشتم کرنا چاہیے تھا۔ جس حالت میں عقلمند انسان کسی کے دھو کہ میں نہیں آسکتا تو اللہ تعالیٰ کیونکر کسی کے دھو کہ میں آسکتا ہے۔ مگر ایسے افعال بد کی جڑ دنیا کی محبت ہے اور سب سے بڑا گناہ جس نے اس وقت مسلمانوں کو تباہ حال کر رکھا ہے اور جس میں وہ مبتلا ہیں وہ یہی دنیا کی محبت ہے۔ سوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر وقت لوگ اسی غم وھم میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور اس وقت کا لحاظ اور خیال بھی نہیں کہ جب قبر میں رکھے جاویں گے۔ ایسے لوگ اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور دین کے لیے ذرا بھی ھم و غم رکھتے تو بہت کچھ فائدہ اٹھا لیتے ۔ سعدی کہتا ہے۔ ع گر وزیر از خدا ترسیدی خدا کی عظمت کو دل میں جگہ دو ملازم لوگ تھوڑی سی نوکری کے لیے اپنے کام میں کیسے چست و چالاک ہوتے ہیں لیکن جب نماز کا وقت آتا ہے تو ذرا ٹھنڈا پانی دیکھ کر ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسی باتیں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں نہیں ہوتی ۔ اگر خدا تعالیٰ کی کچھ بھی عظمت ہو اور مرنے کا خیال اور یقین ہو تو ساری سستی اور غفلت جاتی رہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں رکھنا چاہیے اور اس سے ہمیشہ ڈرنا چاہیے۔ اس کی گرفت خطر ناک ہوتی ہے۔ وہ چشم پوشی کرتا ہے اور درگذر فرماتا ہے لیکن جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر بہت سخت پکڑتا ہے یہاں تک کہ لا يَخَافُ عُقْبُهَا الشَّمس : ۱۶) پھر وہ اس امر کی بھی پروا نہیں کرتا کہ اس کے پچھلوں کا کیا حال ہوگا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس کی عظمت کو دل میں جگہ دیتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو عزت دیتا اور خودان کے لیے ایک سپر ہو جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے مَنْ كَانَ لِلهِ كَانَ اللهُ له یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جاوے اللہ تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے ۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جو لوگ اس طرف توجہ بھی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف آنا چاہتے ہیں ان میں سے اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہتھیلی پر سرسوں جما دی جاوے۔ وہ نہیں جانتے کہ دین کے کاموں میں کس قدر صبر اور حوصلہ کی حاجت ہے اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ دنیا جس کے لیے وہ رات دن مرتے اور ٹکریں مارتے ہیں اس کے کاموں کے لیے تو