ملفوظات (جلد 8) — Page 185
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۵ جلد هشتم دے گا۔ پس ایسی نیکی جس میں گند ملا ہوا ہو کسی کام کی نہیں خدا تعالیٰ کے حضور اس کی کچھ قدر نہیں لیکن یہ لوگ اس پر ناز کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ نجات چاہتے ہیں ۔ اگر اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ تو ایک ذرہ بھی کسی نیکی کو اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے ضائع نہیں کرتا۔ اس نے تو خود فرمایا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَة (الزلزال : (۸) اس لیے اگر ذرہ بھر بھی نیکی ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائے گا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس قدر نیکی کر کے پھل نہیں ملتا ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس میں اخلاص نہیں آیا ہے۔ اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے جیسا کہ فرما یا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (البيئة : ٦ ) یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہیں۔ یہ لوگ ابدال ہو جاتے ہیں اور وہ اس دنیا کے نہیں رہتے ۔ ان کے ہر کام میں ایک خلوص اور اہلیت ہوتی ہے لیکن دنیا داروں کا تو یہ حال ہے کہ وہ خیرات بھی کرتے ہیں تو اس کے لیے تعریف اور تحسین چاہتے ہیں ۔ اگر کسی نیک کام میں کوئی چندہ دیتا ہے تو غرض یہ ہے کہ اخبارات میں اس کی تعریف ہو۔ لوگ تعریف کریں ۔ اس نیکی کو خدا تعالیٰ سے کیا تعلق ؟ بہت لوگ شادیاں کرتے ہیں ۔ اس وقت سارے گاؤں میں روٹی دیتے ہیں مگر خدا کے لیے نہیں صرف نمائش اور تعریف کے لیے۔ اگر ریا نہ ہوتی اور محض شفقت علی خلق اللہ کے لحاظ سے یہ فعل ہوتا اور خالص خدا کے لیے تو ولی ہو جاتے لیکن چونکہ ان کاموں کو خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق اور غرض نہیں ہوتا اس لیے کوئی نیک اور با برکت اثر ان میں پیدا نہیں ہوتا۔ یہ خوب یا د رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لیے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے اور خدا کسی کے دھو کے میں نہیں آتا۔ اگر کوئی یہ چاہے کہ ریا کاری اور فریب سے خدا کو ٹھگ لوں گا تو یہ حماقت اور نادانی ہے۔ وہ خود ہی دھو کہ کھا رہا ہے۔ دنیا کے زیب ، دنیا کی محبت ساری خطا کاریوں کی جڑ ہے۔ اس میں اندھا ہو کر انسان انسانیت سے نکل جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں اور مجھے کیا الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ ۱ مورخه ۷ ارمئی ۱۹۰۶ صفحه ۴، ۵