ملفوظات (جلد 8) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد هشتم دین وہی ہے جو روحانیت سکھاتا ہے اور آگے قدم رکھواتا ہے۔ میں افسوس نہیں کرتا کہ ایسی بری حالت کیوں ہوئی ہے جو اس وقت نظر آ رہی ہے۔ یہ سب اسلام کے کمالات کے ظہور کی خاطر ہوا۔ بت پرستی سے دست برداری کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم پیدا کر دی ۔ یہ لوگ اسلام کی ڈیوڑھی پر ہیں۔ ایک غیب کا دھکا لگے گا تو تمہارے بھائی ہو جائیں گے۔ ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۵ء ۲۷ دسمبر کی صبح کو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا صندوق جنازہ مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔ یہ پہلا بہشتی ہے جو اس مقبرہ میں دفن ہوا۔ دفن کرنے سے پہلے حضرت نے بمعہ خدام جنازہ پڑھایا جس کی تحریک اس طرح سے ہوئی کہ مرحوم کی زوجہ کلاں نے آج رات خواب میں مرحوم کو دیکھا اور مرحوم نے فرمایا کہ میرا جنازہ پڑھا جاوے۔ چنانچہ اس خواب کی تعمیل میں دوبارہ جنازہ پڑھا گیا۔ حضرت نے فرمایا۔ جنازہ بھی دعا ہے۔ خواب کو پورا کر دینا اچھا ہے ۔ ( بعد نماز ظهر ) مسیح موعود کی بعثت اور سلسلہ کے قیام کی غرض اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۰۵ء کو بعد نماز ظہر و عصر مسجد اقصیٰ میں فرمائی ۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۰۵ ء کی صبح کو مہمان خانہ جدید کے بڑے ہال میں احباب کا ایک بڑا جلسہ اس غرض کے لیے منعقد ہوا تھا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی اصلاح کے سوال پر غور کریں۔ اس میں بہت سے بھائیوں نے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کیں ۔ ان تقریروں کے ضمن میں ایک بھائی نے اپنی تقریر کے ضمن میں کہا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے سلسلہ اور دوسرے مسلمانوں میں صرف اسی قدر فرق ہے کہ وہ مسیح ابن مریم زندہ آسمان پر جانا تسلیم کرتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ وہ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۶ صفحه ۲ بدر جلد نمبر ۴۱ مورخه ۲۹ دسمبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۲