ملفوظات (جلد 8) — Page 166
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۶ جلد هشتم اس کی آلائش دور نہ کی جاوے گی وہ اپنا فساد اور بڑھائے گا اور زیادہ مضر اور مہلک ہوگا ۔ اسی طرح پر ہم مجبور ہیں کہ ان کی غلطیاں ان پر ظاہر کریں اور صراط مستقیم ان کے سامنے پیش کریں۔ جب تک وہ صراط مستقیم اختیار نہ کریں گے تو کیا بن سکتے ہیں؟ آریوں کے بعض غیر معقول عقائد ایک طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کے وجود ہی سے منکر ہیں اور دوسری طرف ایسے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ کے وجود کا بظاہر اقرار کیا ہے مگر وہ مانتے ہیں کہ اس نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ گو یا ذره ذره خود خدا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ اس پر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پرمیشر شر و شکتی مان ہے ۔ یہ کیسا سر و شکتی مان ہے کہ کچھ پیدا نہیں کر سکتا ذرہ ذرہ انادی ہے اور روحیں انادی ہیں ۔ ان کے خواص اور قومی انادی ہیں۔ پھر جوڑنا جاڑنا بھی کوئی کام ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک ایسے عقیدہ میں اور دہریوں کے عقیدہ میں ۱۹ اور ۲۰ کا فرق ہے۔ یہ لوگ در حقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے قدرتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔ ہم تو اس کو خدا مانتے ہیں جو علی کُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرۃ: ۱۰۷) ہے ۔ پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی ۔ یہ ایسا بیہودہ اور غلط اصول ہے کہ اس کے لیے کسی بڑی دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ خواب کے نظارے کس نے نہیں دیکھے؟ یہاں تک کہ خواب میں مردوں سے باتیں کرتا اور کھانے پینے کی چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ۔ اب کوئی بتائے کہ وہ ہستی کہاں سے ہوتی ہے؟ کیا نیستی سے نہیں ہوتی ؟ اگر عقل ہوتی اور باپ دادا میں روحانیت کا اثر ہوتا تو ایسی باتیں نہ کرتے۔ یہ باتیں یونانیوں کے اندھے فلاسفروں سے لی ہیں۔ اور علم دین سے محض بے خبر ہیں ۔ علم دین کچھ اور حواس عطا کرتا ہے۔ جس کو فلسفی اور طبعی نہیں پہنچ سکتے ۔ رویا میں سب امور ہست ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات روحانی امور جسمانی رنگ بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ میری وہ رویا ہے جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے جس میں سیاہی کے چھینٹے گرتے پر پڑے تھے اور وہ گرتہ اب تک موجود ہے۔ یہ عجیب در عجیب اسرار ہیں جن کا ان پر ایمان نہیں وہ ایمان ہی کیا ہے؟