ملفوظات (جلد 8) — Page 6
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد هشتم طرح پر مستقل مزاج ہوکر لگا رہتا ہے تو آخر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے وہ بات پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کے دل میں تڑپ اور بے قراری ہوتی ہے۔ یعنی عبادت کے لیے ایک ذوق و شوق اور حلاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مجاہدہ اور سعی نہ کرے۔ اور یہ سمجھے کہ پھونک مار کر کوئی کر دے یہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور سنت نہیں ۔ اس طریق پر جو شخص اللہ تعالیٰ کو آزماتا ہے وہ خدا سے ہنسی کرتا ہے اور مارا جاتا ہے۔ خوب یا د رکھو کہ دل اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا فضل نہ ہو تو دوسرے دن جا کر عیسائی ہو جاوے یا کسی اور بے دینی میں مبتلا ہو جاوے۔ اس لیے ہر وقت اس کے فضل کے لیے دعا کرتے رہو اور اس کی استعانت چاہوتا کہ صراط مستقیم پر تمہیں قائم رکھے۔ جو شخص خدا تعالیٰ سے بے نیاز ہوتا ہے وہ شیطان ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان استغفار کرتا رہے تا کہ وہ زہر اور جوش پیدا نہ ہو جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے ۔ چند الہامات ۱۱ راکتوبر ۱۹۰۵ء قبل وفات مولوی صاحب يأَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمُ ۱۲ اکتوبر ۱۹۰۵ء إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ فرمایا۔ پہلے الہام کے یہ معنے مجھے معلوم ہوئے کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی موت پر حد سے زیادہ غم کرنا ایک قسم کی مخلوق کی عبادت ہے کیونکہ جس سے حد سے زیادہ محبت کی جاتی ہے یا حد سے زیادہ اس کی جدائی کا غم کیا جاتا ہے۔ وہ معبود کے حکم میں ہو جاتا ہے۔ خدا ایک کو بلا لیتا ہے دوسرا اس کا الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰