ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 126

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۶ جلد هشتم بیان فرمایا اس لیے میں قمر کہلایا۔ پھر چونکہ میری روشنی سے جو مجھے دی گئی اس کا نام روشن ہوا اس لیے اس بناء پر مجھے سورج قرار دیا گیا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو قمر قرار دیا کیونکہ وہ میرے ذریعہ سے ظاہر ہوا۔ اور اس نے اپنا زندہ وجود میرے وسیلہ سے لوگوں پر نمایاں کیا۔ یہ شمس و قمر کا خطاب الہام کے دوسرے حصہ کی تشریح ہے کہ انتَ مِی وَانَا مِنْكَ یہ ایک ایسی نظیر ہے جو انسان کے وہم و گمان میں نہیں آسکتی ۔ تقریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ( جو ۲۶ رڈسمبر ۱۹۰۵ء کو قبل دو پہر آپ نے مہمان خانہ جدید میں بیان فرمائی ) میں نے یہ امر پیش کیا تھا کہ ہماری جماعت میں سے ایسے لوگ طیار ہونے چاہئیں جو واقعی طور پر دین سے واقف ہوں اور اس لائق بھی ہوں کہ وہ ان حملوں کا جو بیرونی اور اندرونی طور پر اسلام پر ہو رہے ہیں پورا پورا جواب دے سکیں۔ کے اسلام کی اندرونی بدعات اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ ان کی وجہ اور جہالت سے ہم کافر ٹھیرائے گئے ہیں۔ اور ہم ایسی کراہت کی نظر سے دیکھے گئے ہیں کہ حال کے مخالف علماء کے فتووں کے موافق ہماری جماعت مسلمانوں کے قبرستان میں بھی داخل ہونے کے قابل نہیں ۔ جماعت کی مخالفت کی وجوہات اندرونی طور پر یہ حالت ہے اور بیرونی دشمن اور مخالف ہمارے فرقہ سے اس درجہ مخالفت اور عداوت رکھتے ہیں اور اس حد تک ہم کو اور ہماری جماعت کو برا کہتے ہیں کہ گویا ہم سے ذاتی عداوت ہے اور کسی فرقہ سے ایسی عداوت نہیں ۔ عیسائی پادریوں کے سینہ پر بھاری پتھر یہی جماعت ہے۔ آریوں کی نظر کے ے بدر جلد نمبر ۴۱ مورخه ۲۹ دسمبر ۱۹۰۵ صفحه ۲ کے بدر میں ہے کہ مدرسہ کے متعلق اصلاح کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے یہ بات بیان فرمائی ۔ ملاحظہ ہو بدر جلد ۲ نمبر ۲ مورخه ۱۲ جنوری ۱۹۰۶ ء صفحه ۲