ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 125

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ دسمبر ۱۹۰۵ء اله جلد هشتم غیر احمدی کے پیچھے نماز دو آدمیوں نے بیعت کی۔ ایک نے سوال کیا کہ غیراحمدی کے پچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔ وہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں ۔ اگر ہم کافر نہیں ہیں تو وہ کفر لوٹ کر ان پر پڑتا ہے۔ مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہے۔ اس واسطے ایسے لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ پھر ان کے درمیان جو لوگ خاموش ہیں وہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔ ان کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ اپنے دل کے اندر کوئی مذہب مخالفانہ رکھتے ہیں جو ہمارے ساتھ بظاہر شامل نہیں ہوتے۔' ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۵ء ایک الہام اور اس کی لطیف تشریح يَاقَمَرُ يَا شَمْسُ أَنْتَ مِنَى وَأَنَا مِنْكَ ترجمہ۔ اے چاند اے سورج تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔ فرمایا۔ اس الہام میں خدا تعالیٰ نے ایک دفعہ اپنے آپ کو سورج فرمایا ہے اور مج ہے اور مجھے چاند اور دوسری دفعہ مجھے سورج فرمایا ہے اور اپنے آپ کو چاند۔ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے میری نسبت یہ ظاہر فرمایا ہے کہ میں ایک زمانہ میں پوشیدہ تھا۔ اور اس کی روشنی کے انعکاس سے میں ظاہر ہوا۔ اور پھر فرمایا کہ ایک زمانہ میں وہ خود پوشیدہ تھا۔ پھر وہ روشنی جو مجھے دی گئی اس روشنی نے اس کو ظاہر کیا۔ یہ ایک مشہور مسئلہ ہے کہ نُورُ الْقَمَرِ مُسْتَفَاضُ مِنْ نُّورِ الشمس ۔ یعنی چاند کا نور سورج کے نور سے فیض حاصل کرنے والا ہے۔ پس اس الہام میں اوّل خدا تعالیٰ نے اپنے تئیں سورج قرار دیا اور اس کے انوار اور فیوض کے ذریعہ سے مجھ میں نور پیدا ہونا ۱ بدر جلد ا نمبر ۳۹ مورخه ۱۵ / دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲