ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vii of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page vii

ہوئے فرمایا :۔ یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔ جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی ۔ وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں ۔ 66 ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۳۴۴) اور فرمایا :۔ ”’دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے ۔ دو 66 ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۲۲۲) ” یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں ۔“ ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۳۴۵) پس اے ہمارے پیارے خدا! تو ان دوستوں کے گھروں کو اپنی برکات اور انوار سے بھر دے جو تیرے مُرسل کی باتوں کی قدر کرتے اور ان ملفوظات کا اس پاک نیت سے ان میں درس جاری کرتے ہیں کہ ان کی اولادیں اور ان کے رشتہ دار سب کے سب اس رنگ سے رنگین ہوں جسے تو نے پسند کیا ہے یعنی ان میں سے ہر ایک کی روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح به آواز بلند پکار اٹھے کہ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔ آمین خاکسار جلال الدین شمس ربوه ۹ نومبر ۱۹۶۴ء