ملفوظات (جلد 7) — Page 366
ملفوظات حضرت مسیح موعود اجماع ۱۰ جلد ہفتم اصل غرض مقام رضا کا حصول ہے ۲۹۶ اسلام میں سب سے پہلا اجماع صحابہ کرام کا تمام انبیاء (بشمول عیسیٰ علیہ السلام ) کی وفات صداقت خدا تعالیٰ اس جماعت کو نمونہ بنانا چاہتا ہے ۱۲۹ پر تھا ۳۱۰،۲۷۶،۲۰۱ ،۱۸۷ منہاج نبوت پر اس کی صداقت کو آزمانا احمدیت چاہیے الله لدم سلسلہ کا مقام خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو منہاج نبوت پر قائم کیا ہے مہر نبوت محمدی سے تصدیق یافتہ سلسلہ ۳۳۹،۲۵ ۳۴۷ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک کشش رکھ دی ہے اور لوگ کھچے چلے آتے ہیں مسلسل ترقی صداقت کا نشان ہے سلسلہ کی تائید میں کثرت سے نشانات ۱۸۱ ۳۵۲ ۱۱۵ ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں ہزار ہا افراد کو الہام اور رویا کے ذریعہ جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں ۱۸۴ سلسلہ کی صداقت کے بارہ میں بتایا گیا ۸۲ خدا نے اس غریب جماعت کا نام اس وقت طاعون اور احمد بیت بنی اسرائیل رکھا ہے ال۔ طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے اندر مسیح موعود کا با برکت زمانه احباب جماعت کی نیک چلنی اور اطاعت کے بارہ میں حضور کی رائے ۲۸۳ ۲۸ سچی تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین ۷۳ طاعون کے ذریعہ کئی ہزار آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں ۲۶ اسلام کی ضروریات کے لیے خرچ کرنے احمدیت کا مستقبل پر جماعت کی تعریف جماعت کی حفاظت کے لیے دعا ۲۳۹ ۱۱۸ ہماری جماعت کی ترقی کے متعلق خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں قیام کی غرض ۲۴۲ ،۱۹۸ ، ۱۳۸،۲۰ جماعت کے قیام کی غرض ۳۵۲ ،۳۴۶، ۶۰ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلہ کو بڑھائے قیام کا مقصد ایسی جماعت کا تیار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرے پس کون ہے جو اسے روک لے ۱۱۸ ۲۷۰ میں تو اپنی جماعت کو اسی راہ پر لے جانا اگر ہماری جماعت کی تعداد بیس پچیس لاکھ پر چاہتا ہوں جو ہمیشہ سے انبیاء علیہم السلام کی راہ ہے १५ ٹھہر جائے تو کچھ بھی نہیں ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا اس جماعت سے بھر جائے ۱۹۹