ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 352

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۲ جلد ہفتم مسلمان ہوں جو مسلمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور عیسائیوں کے لیے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آوے۔ دنیا اس کو بالکل بھول جاوے۔خدائے واحد کی عبادت ہو۔ میرے ان مقاصد کو دیکھ کر یہ لوگ میری مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ انہیں یا د رکھنا چاہیے کہ جو کام نفاق طبعی اور دنیا کی گندی زندگی کے ساتھ ہوں گے وہ خود ہی اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔ کاذب کبھی کامیاب ہو سکتا ہے؟ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِقُ كَذَّابٌ (المؤمن : ۲۹) کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کذب ہی کافی ہے۔ لیکن جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لیے ہوں اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے ہی ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہو تو پھر اس کی حفاظت تو خود فر شتے کرتے ہیں ۔ کون ہے جو اس کو تلف کر سکے؟ یا درکھو میرا سلسلہ اگر نری دوکانداری ہے تو اس کا نام ونشان مٹ جائے گا لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقیناً اسی کی طرف سے ہے تو خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت کرے یہ بڑھے گا اور پھیلے گا اور فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔ اگر ایک شخص بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کوئی بھی مدد نہ دے۔ تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہوگا ۔ مخالفت کی میں پروانہیں کرتا۔ میں اس کو بھی اپنے سلسلہ کی ترقی کے لیے لازمی سمجھتا ہوں ۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی مامور اور خلیفہ دنیا میں آیا ہو اور لوگوں نے چپ چاپ اسے قبول کر لیا ہو۔ دنیا کی تو عجیب حالت ہے ۔ انسان کیسا ہی صدیق فطرت رکھتا ہو مگر دوسرے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے وہ تو اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے سلسلے کی ترقی فوق العادت ہو رہی ہے۔ بعض اوقات چار چار پانچ پانچ سو کی فہرستیں آتی ہیں اور دس دس پندرہ پندرہ تو روزانہ درخواستیں بیعت کی آتی رہتی ہیں اور وہ لوگ علیحدہ ہیں جو خود یہاں آکر داخل سلسلہ ہوتے ہیں۔ کے کی کہ لوگ سلسلہ کے قیام کی غرض اس سلسلہ کے قیام کی اصل غرض یہی ہے کہ اگ دنیا کے گندے کھلیں اور اصل طہارت حاصل کریں اور فرشتوں کی سی زندگی بسر کریں۔