ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 340

ملفوظات حضرت مسیح موعود له لد ۔ جلد ہفتم مولوی ہم کو رطب و یابس اور ضعیف حدیثوں اور قولوں سے جیتنا چاہتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام تو رات اور انجیل کی آیات کو محرف قرار دیا جو آپ کے حکم ہونے کی معارض تھیں یا ان کے ایسے معنے کئے جو آپ کے سلسلہ اسلام کے موافق ثابت ہوئیں اور ان آیات کے معنے خدا داد فراست اور الہام سے کئے اور اہل کتاب کے غلط معنوں کو رد کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری موجودہ تو رات اور انجیل کو صحیح قبول نہ کیا۔ بلکہ کئی ایک آیات کو محرف اور کئی ایک کے معنے صحیح طور سے بذریعہ الہام کئے ۔ اسی طرح ہمارا سلسلہ ہے۔ ہم بطور حکم کے آئے ہیں۔ کیا حکم کو یہ لازم ہے کہ کسی خاص فرقہ کا مرید بن جاوے؟ بہتر فرقوں میں سے کس کی حدیثوں کو مانے؟ حکم تو بعض احادیث کو مردود اور متروک قرار دے گا اور بعض کو صحیح ۔ فرمایا۔ بڑے بڑے صریح ظلم مظلوموں پر ڈھائے جاتے مظالم سے بچنے کی واحد راہ ہیں۔ اور ہمارے سامنے ظالموں سے کوئی چنداں باز پرس : نہیں ہوتی ۔ اس کا باعث بھی خدا تعالیٰ نے اسی آیت میں فرمایا ہے مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) یعنی خدا کو تمہاری پروا کیا ہے۔ اگر تم دعاؤں اور عبادت الہی میں تغافل اختیار کرو۔ بے شک ظلم اور دست درازیاں مظلوموں پر ہوویں کوئی پروا نہیں کی جائے گی جب تک وہ مظلوم خدا سے سچا تعلق بذریعہ صراط مستقیم پیدا نہ کر لیں ۔ اور مظلوم پر ظلم اس لیے ہوتے ہیں کہ مظلوم خود ذبیحہ بکری یا کیڑے کی طرح ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا سے سچا تعلق نہیں رکھتا۔ ورنہ ممکن ہے کہ خدا جو اس کا دین و دنیا کا متکفل ہو اور اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ پھر اس پر کسی ظالمانہ مخالفت کا وار چلنے دے۔' بلا تاریخ مامور من اللہ کی صداقت کا نشان راستباز اور مامورمن اللہ کی صداقت کا بڑا نشان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو غیب کی خبریں دیتا ہے اور پھر الحکم جلد ۹ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۵ صفحه ۵۰۴