ملفوظات (جلد 7) — Page 339
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۹ جلد ہفتم تو ممکن نہ تھا ایک یتیم بچہ دنیا کو مغلوب کر لیتا۔ حکم وَاذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (الاحزاب: ۴۲) کا وہی عامل گذرا ہے ۔ یعنی لڑائی کے وقت جب جھاگ منہ سے جاری ہے اور مارے غصہ کے آدمی جل رہا ہے۔ اس وقت بھی یہ حکم ہوتا ہے کہ خدا کو یاد کر کے کسی پر وار چلانا۔ ان دشمنان دین کے مقابلہ پر جنہوں نے سیکڑوں صحابہ کو ذبح کر دیا تھا۔ فتح مکہ پر کیسا خدا کو یاد کیا اور کیسا ترحم دکھایا۔ ذکر الہی کی حقیقت فرمایا کہ خدا کا بنا اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہر ایک گھنٹہ او رات میں انسان ذکر الہی میں رہے۔ ذکر الہی سے مراد یہ نہیں کہ تسبیح پکڑلے بلکہ ذکر سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کام شروع کرتے وقت اس کو اس بات کا دھیان ہو کہ آیا یہ کام خدا کی مرضی کے خلاف تو نہیں ۔ جب اس طرح انسان کامل بن جاتا ہے تو خدا اس کا بن جاتا ہے اور حسب وَلِی الْمُؤْمِنِينَ اس کو ہر موقعہ پر غموم وہموم سے بچاتا ہے ۔ بظاہر اکثر ایسے لوگ ہیں کہ وہ آدمی ہوتے ہیں لیکن حالت کشف میں ان کو کتوں اور گدھوں کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا کا قرب اور نزدیکی بھی اور زندگی بھی انعام ( انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) درازی عمر میں شامل ہے۔ مخالفین اس انعام میں مسیح کوتو شال کرتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے نصیب رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو اس عقیدہ سے شرم نہیں آتی ۔ اور لمبی زندگی اس طرح انعام میں شمار ہو سکتی ہے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ في الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) اور مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) یعنی نافع چیز کو درازی عمر نصیب ہوتی ہے اور خدا دین سے غافلوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے پروانہیں کرتا۔ پس ثابت ہوا کہ جو دین سے غافل نہ ہوں۔ ان کی ہلاکت اور موت میں خدا جلدی نہیں کرتا۔ فرمایا کہ ہمارا سلسلہ منہاج نبوت پر ہے جس طرح سلسلہ کا منہاج نبوت پر ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہود اور نصاری سے سے مقابلہ کرنا پڑا۔ اسی طرح ہم کو بھی ان یہودی صفت مسلمانوں اور نصاری سے مقابلہ کرنا پڑا۔ کیا یہ