ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 311

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد ہفتم آنے والے کا جو فیصلہ حضرت عیسیٰ کی اپنی عدالت سے ہوا اس کے خلاف کوئی فیصلہ پیش کرو۔ انہوں نے تو ثابت کیا کہ آنے والا بروزی رنگ میں آیا کرتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ وہ حقیقی مردے زندہ کر دیا کرتے تھے۔ پس اگر یہ سچ ہے تو کیوں انہوں نے ایلیاء کو زندہ نہ کر لیا تاکہ ان کی نبوت مشتبہ نہ ہوتی اور یہودیوں کی قوم تباہ نہ ہوتی ۔ انہوں نے ملا کی نبی کی پیشگوئی ہی کا تو سوال کیا تھا۔ ان کے راہ میں روک اور پتھر وہی امر ہوا نہ کوئی اور ۔ اس تاویل پر جو حضرت مسیح نے کی تھی وہ راضی نہ ہوئے اور انکار کر کے لعنتی ٹھیرے۔ بعض اوقات جب اس دلیل کا نقض ہمارے مخالف نہیں کر سکتے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتا بیں محرف مبدل ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ محرف مبدل ہی سہی لیکن تو اتر قومی کو کیا کرو گے؟ یہودی اب تک موجود ہیں ان سے پوچھ لو کہ کیا وہ اس امر کے منتظر نہیں ہیں کہ مسیح سے پہلے ایلیا ضرور آئے گا اور عیسائی بھی اس کے قائل ۔ اگر وہ قائل نہ ہوتے تو ایلیاء کا بروز یوحنا کو کیوں تسلیم کرتے ؟ پس یہودی اور عیسائی باوجود یکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ مگر اس امر پر بالکل متفق ہیں۔ ایسی صورت میں یہ امر بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ یہ امور ہمارے زبر دست مؤید ہیں جیسے بجلی کا نام الیاس رکھا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے میرا نام عیسی رکھا لیکن اگر کوئی کہے کہ اس نام میں حکمت کیا تھی؟ اس کے جواب میں یادر ہے کہ یہود اسی شرارت کی وجہ سے منحرف ہوئے تھے کہ الیاس نہیں آیا ۔ چنانچہ ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس موجود ہے اس نے اس امر پر بڑاز ورد یا ہے بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر قیامت کو ہم سے سوال ہو گا تو ہم ملا کی نبی کا صحیفہ پیش کریں گے کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ مثیل آئے گا ؟ پس یہودیوں کے لعنتی اور منحرف ہونے کے لیے یہ ابتلا انہیں آ گیا۔ اس امت کے لیے سلسلہ موسوی کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ ایک مسیح آئے اور علاوہ بریں چونکہ اس امت کے لیے یہ کہا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں وہ یہود کے ہمرنگ ہو جائے گی۔ چنانچہ بالا تفاق غَيْرِ الْمَغْضُوبِ (الفاتحة :) میں مغضوب سے مراد یہود لی گئی ہے۔ پھر یہ یہودی تو اسی وقت ہوتے جب ان کے سامنے بھی ایک