ملفوظات (جلد 7) — Page 301
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ جلد ہفتم ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ خاموش ہو گیا وہ کسی سے کلام نہیں کرتا۔ دعاؤں میں تاثیر اور قبولیت نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تاثیرات پیچھے رہ گئی ہیں اب نہیں ۔ افسوس ان پر! انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف اور خدا تعالیٰ کی قدر نہیں کی ۔ اسلام زندہ مذہب اور ہماری کتاب زندہ کتاب اور ہمارا خدا زندہ خدا اور ہمارا رسول زندہ رسول ۔ پھر اس کے برکات، انوار اور تاثیرات مردہ کیونکر ہو سکتی ہیں؟ میں اس مخالفت کی کچھ پروا نہیں کر سکتا۔ ان کی مخالفت کے خیال سے میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ لاہور میں عبد الحکیم نام ایک شخص سے کیا امت میں وحی والہام کا دروازہ بند ہے میری گفتگو ہوئی۔ اس نے کہا کہ الہام پہلی امتوں کا خاصہ تھا یہاں تک کہ عورتوں کو بھی وحی ہوتی تھی مگر اس امت میں یہ دروازہ بند ہے۔ کیسے شرم کی بات ہے ! کیا یہ امت بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گزری ہو گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کے لیے یہی چاہا ہے کہ وہ خیر الامم کہلا کر بھی محروم رہے؟ اس عبد الحکیم نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی محدث نہ تھے ۔ وہ بھی صرف ان کو ایک خوش کرنے کی بات تھی محدث وہ بھی نہ تھے۔ مختصر یہ کہ اس قسم کی ہتک اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لوگ کرتے ہیں ۔ پھر میں ان کی مخالفت کی کیا پروا کروں؟ یہ لوگ اسلام کے دوست نہیں دشمن ہیں۔ اگر بقول ان کے سب بے نصیب ہیں تو پھر کیا فائدہ؟ ہزار اتباع کریں معرفت نہ بڑھے گی ۔ تو کوئی احمق اور نادان ہی ہوگا جو اس پر بھی اتباع ضروری سمجھے۔ حضرت عیسی کا آنا نہ آنا تو امر ہی الگ ہے۔ اس سوال کو پیچھے چھوڑو۔ پہلے یہ تو فیصلہ کرو کہ کیا اس امت پر بھی وہ برکات اور فیوض ہوں گے یا نہیں؟ جب یہ فیصلہ ہوئے تو پھر عیسی کی آمد کا سوال جھٹ حل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ جن مہلکات میں پھنسے ہوئے ہیں وہ بہت خطرناک مرض ہے اس سے بڑھ کر اور کیا