ملفوظات (جلد 7) — Page 292
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد ہفتم دوسری طرف مخلوق کے لیے ان کے دل میں اس قدر ہمدردی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے لیے بھی خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور خود ان کی جان جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن شریف میں فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ۴) یہ کس قدر ہمدردی اور خیر خواہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں فرمایا ہے کہ تو ان لوگوں کے مومن نہ ہونے کے متعلق اس قدر هم و غم نہ کر۔ اس غم میں شاید تو اپنی جان ہی دے دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمدردی مخلوق میں کہاں تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس قسم کی ہمدردی کا نمونہ کسی اور میں نہیں پایا جاتا۔ یہاں تک کہ ماں باپ اور دوسرے اقارب میں بھی ایسی ہمدردی نہیں ہو سکتی ۔ مخلوق تو انہیں کا ذب اور مفتری کہتی ہے اور وہ مخلوق کے لیے مرتے ہیں۔ یقیناً یا د رکھو کہ یہ ہمدردی والدین میں بھی نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ جب دیکھتے ہیں کہ اولا د سرکش اور نافرمان ہے یا اور نقص اس میں پاتے پاتے ہیں تو آخر اسے چھوڑ دیتے ہیں مگر انبیاء ورسل کی یہ حالت نہیں ہوتی وہ مخلوق کو دیکھتے ہیں کہ ان پر حملے کرتی اور ستاتی ہے۔ لیکن وہ اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قدر دعا کرتے تھے جس کا نمونہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ایک پیاس لگا دی تھی کہ لوگ مسلمان ہوں اور خدائے واحد کے پرستار ہوں ۔ انبیاء کی جذب و کشش اور اس کے اثرات جس قدر کوئی بھی عظیم الشان ہوتا ہے اسی قدر یہ پیاس زیادہ ہوتی ہے اور یہ پیاس جس قدر تیز ہوتی ہے اسی قدر جذب اور کشش اس میں ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم الانبیاء اور جمیع کمالات نبوت کے مظہر تھے اس لیے یہ پیاس آپ میں بہت ہی زیادہ تھی اور چونکہ یہ پیاس بہت تھی اسی وجہ سے آپ میں جذب اور کشش کی قوت بھی تمام راستبازوں اور ماموروں سے بڑھ کر تھی جس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ آپ کی زندگی ہی میں کل عرب