ملفوظات (جلد 7) — Page 291
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۱ جلد ہفتم اس کے دل میں بڑا بننے سے طبعاً نفرت اور کراہت ہوتی ہے ۔ مگر وہ لوگ جو خود اس قسم کی کبریائی کی بیہودہ خواہشوں کے غلام اور اسیر ہوتے ہیں وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے ان کی نسبت بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا بننے کی خواہشوں سے ایسے دعوے کرتے ہیں حالانکہ وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ ان کا دعوئی تو ان پر ایک آفتوں اور مصائب کا طوفان لے آتا ہے اور ان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ ہر طرف سے ان کی مخالفت کے لیے ہاتھ اور زبان چلتی ہے اور کوئی دقیقہ ان کو دکھ دینے میں اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ پھر یہ کیسی بے انصافی اور ظلم ہے کہ ان کی نسبت یہ وہم کیا جاوے کہ وہ خواہش کبریائی سے ایسا کرتے ہیں۔ یہ بہتانِ عظیم ہے ۔ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت کے اظہار اور اس کی کبریائی کے اعلان کو پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے اپنی جان ایک جان کیا ہزار جان بھی دینے کو ہوتے ہیں ۔ افسوس اہل دنیا ان کے حالات سے بے خبر اور نا واقف ہوتے ہیں اس لیے اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مصالح پسند فرماتے ہیں کہ ان کو باہر نکالا جاوے اور وہ دنیا کے سامنے نکلیں اور وہ خدا جو اہل دنیا سے مخفی ہوتا ہے ان کے وجود میں نظر آوے۔ یہ کہ جس سے انبیاء کو اللہ تعالی عظمت عطا کرتا ہے یہ بھی یاد رکھو کہ جس چیز سے انسان نفرت کرتا ہے ہے وہی اس کو دیتا ہے اور جس کی طرف بھاگتا ہے اس سے محروم کیا جاتا ہے۔ انبیاء ورسل کا گروہ ہرگز ہرگز اپنی جاہ و حشمت کو نہیں چاہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے مصالح کی بنا پر انہیں عطا کرتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گزرے ہیں اور اس لحاظ سے ان سب کو گویا ایک ہی سمجھو کیونکہ سب کے ساتھ ایک ہی معاملہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی ایک کو بھی ذلیل اور خوار نہیں کیا اس لیے کہ ان کی ذلت خود اللہ تعالیٰ کی ذلت ہے و تعالیٰ شانہ ۔ جو لوگ ان کے خلاف کرتے ہیں اور مخلوق کو عظمت دیتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی ردا مخلوق کو پہناتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مردود ہوتے ہیں ۔ انبیاء میں مخلوق سے ہمدردی یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایک طرف انبیاء ورسل اور خدا تعالیٰ کے مامورین اہل دنیا سے نفور ہوتے ہیں اور