ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 251

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۱ جلد ہفتم بادشاہ ایک دو منزل پر آگیا تو انہوں نے پھر عرض کی۔ مگر اس نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ ہنوز دہلی دور است ۔ یہاں تک کہ بادشاہ عین شہر کے پاس آگیا اور شہر کے اندر داخل ہونے لگا۔ تب لوگوں نے اس بزرگ کی خدمت میں عرض کی کہ اب تو بادشاہ شہر میں داخل ہونے لگا ہے۔ یا داخل ہو گیا ہے مگر پھر بھی اس بزرگ نے یہی جواب دیا کہ ہنوز دہلی دور است ۔ اسی اثنا میں خبر آئی کہ جب بادشاہ دروازہ شہر کے نیچے پہنچا تو اوپر سے دروازہ گرا اور بادشاہ ہلاک ہو گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کو کچھ منجانب اللہ معلوم ہو چکا تھا۔ ایسا ہی شیخ نظام الدین کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ بادشاہ کا سخت عتاب ان پر ہوا اور حکم ہوا ر کہ ایک ہفتہ تک تم کو سخت سزادی جائے گی۔ جب وہ دن آیا تو وہ ایک مرید کی ران پر سر رکھ کر سوئے تھے۔ اس مرید کو جب بادشاہ کے حکم کا خیال آیا تو وہ رویا اور اس کے آنسو شیخ پر گرے جس سے شیخ بیدار ہوا اور پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے؟ اس نے اپنا خیال عرض کیا اور کہا کہ آج سزا کا دن ہے۔ شیخ نے کہا کہ تم غم مت کھاؤ ہم کو کوئی سزا نہ ہوگی ۔ میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مارکھنڈ گائے مجھے مارنے کے واسطے آئی ہے۔ میں نے اس کے دونو سینگ پکڑ کر اس کو نیچے گرا دیا ہے۔ چنانچہ اسی دن بادشاه سخت بیمار ہوا اور ایسا سخت بیمار ہوا اور اسی بیماری میں مر گیا۔ یہ تصرفات الہی ہیں جو انسان کی سمجھ میں پہلے نہیں آسکتے ۔ جب وقت آ جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی تقریب پیدا ہو جاتی ہے۔ سب دل خدا کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ خدا کی رحمت سے نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے اذن کے بغیر تو کوئی جان بھی نہیں نکل سکتی خواہ کیسے ہی شدید عوارض ہوں ۔ نا امید ہونے والا بت پرست سے بھی زیادہ کافر ہے۔ عاجز راقم راقم نے نے اپنا ا آج کا خواب عرض کیا کہ طاعون طاعو آئندہ طاعون سے بچنے کا علاج بہت پھیلا ہوا دکھائی دیا اور کوئی کہتا ہے یا میں کہتا ہوں کہ جو آجکل رات کو اٹھ کر دعا کرے گا وہ اس سے آئندہ طاعون کے وقت بچایا جائے گا۔ فرمایا ۔ یہ بالکل سچ ہے۔ راتوں کو اٹھ کر بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالی آنے والے لے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتب)