ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 189

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۹ چھوڑ و مجھے تو اس کا فکر ہو رہا ہے کہ خدا کی ہستی ہی پر ان کو یقین نہیں رہا۔ جلد ہفتم اس مقام پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ کل میں نے اپنے درس میں ایک موقع پر اپنی جماعت کو خطاب کر کے کہا کہ سنو! تم نے اس سلسلہ میں داخل ہو کر کیا لیا؟ دنیا تو تم پر لعنت بھیجتی ہے اگر خدا کے ساتھ ہی تمہارا معاملہ صاف نہ ہو اور باہم بغض کینہ اور دشمنی رہی تو پھر خدا سے کیا لیا؟ حضرت اقدس نے فرمایا خدا سے کیا لینا تھا۔ کچھ بھی نہیں ۔ بالکل سچ ہے۔ لود حضرت منشی احمد جان کا ذکر خیر منی احمد جان صاحب مرحوم و مغفورمشہور صوفی و بانوی کے ذکر خیر میں حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ انہوں نے طب روحانی کے سلسلہ میں اور بھی دو تین جلدیں لکھنے کا ارادہ کیا تھا لیکن حضور کے دعوے کو سن کر انہوں نے اس طریق کو چھوڑ دیا اور اسے محض کھیل تماشہ قرار دیا۔ جس سے مجھے ان کے ساتھ بڑی محبت ہو گئی ۔ حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا مجھے بھی انہوں نے ایسا ہی خط لکھا تھا۔ غرض آپ کا ذکر خیر ہوتا رہا۔ ان کے اخلاص کے ذکر میں توجہ اور سلب امراض دعا ہی اصلیت ہے سے علم کاذکر ہوا۔ اس پر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں جو طریق شفا کا رکھا ہے وہ تو دعا ہی کا طریق ہے اپنے نفس اور توجہ پر بھروسہ کرنا یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔ لیکن جب انسان خدا سے دعا کرتا ہے تو یہ سب باتیں فنا ہو جاتی ہیں اور انسان پھر اصل پناہ کی طرف دوڑتا ہے۔ پس یا د رکھو کہ دعا ہی اصلیت ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ نرا خبط ہے ۔ دعا کی عجیب عجیب تاثیریں میں نے تجربہ کی ہیں ۔ ایک بار میں درد دانت سے سخت تکلیف میں تھا عمر دراز نام ایک گرداو رہمارے ہاں آیا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ دانت کے درد کا علاج بھی آپ کو معلوم ہے۔ اس نے کہا علاج دندان اخراج دندان ۔ میں نے جب یہ بات سنی تو خیال کیا کہ دانت کا نکلوانا بھی ایک عذاب ہی ہے۔ میں اس وقت ایک چٹائی پر بیٹھا ہوا تھا اور درد کی -