ملفوظات (جلد 7) — Page 188
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد ہفتم کہ میں نے بھی براہین میں ایسا ہی لکھا تھا مگر وہ نہیں سمجھتے کہ یہی بات ہماری صداقت کی گواہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کوئی منصوبہ بازی نہیں کرتے ۔ خود اسی کتاب براہین میں ہمارا نام مسیح رکھا گیا اور خدا تعالیٰ کے تمام وعدے اسی کے اندر ہیں۔ اگر یہ غلطی مجھ سے براہین احمدیہ میں صادر نہ ہوتی تو ایک بناوٹ معلوم ہو سکتی تھی ۔ لے ۸ راگست ۱۹۰۵ء (دربار شام) فرمایا۔ آج میں نے بارش کے لیے دعا کی تھی دعا کے سان ی دعا کے ساتھ ہی دل موجودہ دنیا کی حالت میں میں یہ خیال گذرا کہ یہ جبس اور امساک باراں اللہ تعالیٰ کے قضاء وقدر 66 دو کے موافق ہے اور اس میں دخل دینا مناسب نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے ۔ ” دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ ہر قسم کے مصائب شدائد اس کے زور آور حملوں میں آتے ہیں اور یہ سب ایک قسم کی پیشگوئیاں ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے بہر حال ہمارے لیے مفید ہے۔ کیا عجب کہ قحط کے رنگ میں بھی کوئی حملہ ظاہر ہونے والا ہو۔ فرمایا۔ دنیا کی حالت اور رنگ دیکھا جاوے تو وہ بہت کچھ بدلا ہوا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایسی حالت ہو گئی ہے کہ گویا حسن ظن کا موقع ہی نہیں رہا۔ کیونکہ اگر ہر پہلو سے بدظنی ہی ظاہر ہو تو انسان کہاں تک اس پر حسن ظن کرے گا۔ میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ دنیا میں سوائے دہریت مکر وفریب کے اور کوئی بات نظر نہیں آتی ۔ بالکل طبیعتیں دنیا ہی پر مائل ہوگئی ہیں۔ یہاں تک کہ دین کا کام بھی اگر کوئی اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس میں بھی ان باتوں کا دخل ہے۔ یا تو وہ محض دنیا کا لالچ ہے یا دنیا کی ملونی ہے۔ ایسی حالت میں میں نے سوچا کہ اگر کوئی مرتا ہے تو پھر مرے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ تو اور اور باتوں کے لیے روتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اور باتوں کو ل بدر جلد ا نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۲