ملفوظات (جلد 7) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ جلد ہفتم ہے کہ اس نے ایک کشش رکھ دی ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو پہنچانا چاہتا ہے اسی حد تک اس نے کشش رکھ دی ہے۔ پھر ذکر آیا کہ بعض لوگ بیعت کے خطوط بھیجتے ہیں تو ان میں درج ہوتا ہے کہ ہمارا مشروط بیعت فلاں کام ہو جاوے یا اس قدر رو پیل جاوے تو بیعت کر لیں گے۔ اس پر فرمایا۔ ایسی شرائط والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں ۔ صدیقی فطرت والے تو کسی نشان یا معجزہ کا طلب کرنا اپنی ہتک شان سمجھتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے کون سے نشانات دیکھے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ عرب کی موجودہ حالت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی مصلح آوے۔ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا تو آپ کے اخلاق اور آپ کی راستبازی ہی ایک عظیم الشان معجزہ ان کے واسطے ہوگئی اور انہوں نے دعوئی کے سنتے ہی قبول کر لیا ایسے لوگوں کے لیے کسی نشان کی کبھی حاجت نہیں ہوئی۔ جو لوگ اس قسم کی شرائط پیش کرتے ہیں کہ اس قدر آمدنی ہو جاوے تو ایمان لائیں گے وہ گویا یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لاکر اللہ تعالیٰ پر یا اس کے رسول پر احسان کرتے ہیں ۔ وہ احمق نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا کیا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہدایت کی راہ ان کو بتائی اور اپنے مامور کو ہدایت کے واسطے بھیجا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صاف احسان ہے وہ الٹا خدا تعالیٰ پر احسان رکھنا چاہتے ہیں۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نشان اللہ کے پاس ہیں ۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے زمین و آسمان میں نشان ہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کیسے بیوقوف ہیں جو اتنا نہیں سمجھتے کیا یہ وقت کسی نبی کی ضرورت کا ہے یا نہیں؟ حالت زمانہ خود اس پر شہادت دیتی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر اور وہ کیا نشان چاہتے ہیں؟ ہر شخص اس امر کا محتاج ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے جاوے۔ جب اس امر کی ضرورت ہے تو یہ شرط کیسی بیہودہ اور فضول ہے کہ وہ کام ہو یا اس قدر آمد نی ہو تو بیعت کروں گا ۔ ضرورت جو ہر وقت مد نظر ہونی چاہیے وہ تو حسنِ انجام کی ضرورت ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں کیوں ہوتی ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت دل پر نہیں ہے۔