ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 181

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۱ جلد ہفتم اور فی الحقیقت تنہائی ہی کو پسند کرتے ہیں جہاں وہ اپنے محبوب سے اپنے دل کی آرزوئیں اور تمنائیں پیش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس حالت میں کوئی ان کو نہ دیکھ لے علاوہ بریں یہ تعلقات ان کی تکمیل کے لیے ہوتے ہیں۔ میں نے بار ہا بیان کیا ہے کہ اخلاق کے سارے پہلو پورے نہیں ہوتے ہیں جب تک ہر قسم کی حالتیں پیش نہ آئیں ۔ نبیوں اور رسولوں کے لیے شدائد اور مشکلات بھی آتے ہیں اور یہ مشکلات بھی ان کے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہوتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسے تمام اخلاق کا اظہار ہوا ہے کسی دوسرے کو یہ موقع نہیں ملا۔ مکہ معظمہ میں جب تک آپ رہے تو ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات کا سامنا رہا۔جس میں آپ کے کمال صبر اور رضا بالقضا کے پہلو کا ظہور ہوا۔ پھر جب آپ فاتح ہو کر ایک بادشاہ کی حیثیت سے داخل ہوئے تو حالانکہ آپ ان سب کو قتل کر سکتے تھے اور اس قتل میں حق پر بھی تھے لیکن باوجود مقدرت کے ان سب کو معاف کر دیا جس سے آپ کے کمال ایثار، سخاوت، عفو اور درگذر کا ثبوت مل گیا۔ حضرت مسیح کو یہ موقع نصیب نہیں ہوا۔ اور وہ ان دونوں پہلوؤں کو ظاہر نہیں کر سکے ۔ ۵ را گست ۱۹۰۵ء (دربار شام ) سلسلہ کے لیے کشش حضرت حجتہ اللہ کے تشریف فرما ہوتے ہی ایک حاجی صاحب درد نے پیش ہو کر بیعت کی درخواست کی جس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ ایک دو دن کے بعد کر لینا۔ اس کے بعد سلسلہ کلام یوں شروع ہوا کہ کثرت کے ساتھ لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں بظاہر اس کے وجوہ اور اسباب کا ہمیں علم نہیں ۔ ہماری طرف سے کون سے واعظ مقرر ہیں جو لوگوں کو جا کر اس طرف بلاتے ہوں یہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشش ہے۔ اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی سلسلہ قائم ہوتا ہے تو اس میں ایک کشش لگی ہوئی ہوتی ہے جس کے ساتھ لوگ کھچے چلے آتے ہیں۔ یہی حال یہاں بھی الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۵ صفحه ۲، ۳