ملفوظات (جلد 7) — Page 173
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد ہفتم مولوی ثناء اللہ امرتسری گیا تھا۔ وہاں اس نے عام مجمع میں اثنائے وعظ میں کہا کہ مرزا صاحب کے مرید لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِرْزَا غُلَامٍ أَحْمَدَ رَسُولُ اللهِ یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس پر ایک مخالف مگر انصاف پسند شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب اگر یہ کلمہ مرزا صاحب کی کسی تصنیف سے نکال دیں تو میں پانچسو روپیہ ابھی آپ کو نقد انعام دیتا ہوں ۔ یہ تحدی سن کر مولوی صاحب چکرائے اور اکثر لوگ بیزار ہو کر حلقہ وعظ سے اٹھ گئے مولوی صاحب اپنا سا منہ لے کر واپس آئے ۔ نکته معرفت حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لو کو لا کر امت بناتے ہیں اور ہم امت کو مسیح بناتے ہیں ۔ اے بلا تاریخ صحیح علم کی ضرورت اور اس کے حصول کا ذریعہ قوت ذوق شوق علم سے پیدا ہوتی ہے ۔ جب تک علم اور معرفت نہ ہو کیا ہو سکتا ہے ۔ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) کی دعا میں یہ بھی ایک سر ہے کیونکہ جس قدر آپ کا علم وسیع ہوتا گیا اسی قدر آپ کی معرفت اور آپ کا ذوق شوق ترقی کرتا گیا۔ پس اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت میں اسے ذوق شوق پیدا ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کی نسبت صحیح علم حاصل کرنا چاہیے اور یہ علم تم کبھی ۔ حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان صادق کی صحبت میں نہ رہے اور اور ا اللہ تعالیٰ کی تازہ بتازہ تجلیات کا ظہور مشاہدہ نہ کرے۔ کامل وفاداری کی ضرورت اللہ تعالی کے ساتھ صح اور سچا تعلق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پورا وفادار اور مخلص ہو۔ جو شخص وفادار نہیں اگر وہ ہر روز اس قدر روتا رہے کہ اس کے آنسوؤں کا ایک چھپڑ کے لگ جاوے تو بھی خدا تعالیٰ کے الحکم جلد ۹ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۳ ے جو ہر