ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 172

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد ہفتم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے ۔ جس طرح پر انسان روزہ رکھتا ہے تو اس روزہ کے ساتھ سحری بھی ہے اور اس میں اس کو اجازت ہے کہ جو چاہے سو کھائے لیکن قضاء وقدر کا جو روزہ ہے اس کے لیے کون سی سحری ہے؟ فرمایا۔ آج اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی ایک الہام غنودگی ہوئی اور الہام ہوا مجد مصلح زلزلہ کے متعلق مختلف ذکر ہوتے رہے۔ وراء الوراء اسباب فرمایا۔ اموری کا پتہ رکھنا چاہیے تا کہ جب پیشگوئی پوری ہو تو اس کو بھی اشتہار بھیجا جاوے۔ 200 فرمایا۔ عام لوگوں کا علم یہیں تک محدود ہے کہ عام اسباب مادیہ کے ماتحت تحریکات ہوتی ہیں۔ لیکن اسی حد تک ختم کر دینا یہ سخت غلطی ہے۔ قضاء و قدر کے اسباب بعض اوقات وراء الوراء ہوتے ہیں اور ان کا تعلق محض كُن فَيَكُون (البقرة: (۱۱۸) سے ہی ہوتا ہے۔ جسے دوسرے لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے اگر یہ اسباب اسی حد تک ہوتے جہاں تک یہ لوگ سمجھے بیٹھے ہیں تو پھر تو گویا خدائی ہی کو اپنے قبضہ میں لے آتے ۔ پہلی امتوں پر جو جو عذاب آئے ہیں اگر ان کے حکماء کو ان کے اسباب کی خبر ہوتی تو وہ ان کو بچا کیوں نہ لیتے ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسباب وراء الوراء رہتے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس خارق عادت نشان سے بہت سے لوگ سیدھے ہو جائیں گے۔ اے ۳۰ جولائی ۱۹۰۵ء (قبل از عشاء) ت مسیح موعود اور آپ کے مخالفین میں فرق تعریف ہے توسب سے اول نوری مالی لائے سب سے منگل کے متصل آئے ہوئے چار آدمیوں نے بیعت کی۔ بعد بیعت تذکرہ ہوا کہ موضع تیجہ متصل لودی ننگل میں الحکم جلد ۹ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۳