ملفوظات (جلد 7) — Page 154
ملفوظات حضرت مسیح موعود اولد جلد ہفتم ۱۱ جون ۱۹۰۵ء فرمایا۔ ایک شخص زلزلہ کی پیشگوئی کے متعلق بعض اعتراضات کے جوابات نے اعتراض کیا ہے کہ زلزلہ کے واسطے جب تک تاریخ نہ ہو تب تک یہ پیشگوئی کچھ نہیں ۔ فرمایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ بَغْتَةً یعنی یہ واقعہ اچانک ہونے والا ہے جبکہ کسی کو بھی خبر نہ ہوگی ۔ اس واسطے اب تاریخ کا سوال بے فائدہ ہے اللہ تعالیٰ اگر تاریخ بتلا دے تو یہ امر پہلے الہام کے مخالف ہوگا۔ علاوہ اس کے خدا چاہتا ہے کہ نیکوں کو بچائے اور بدوں کو ہلاک کرے اگر وقت اور تاریخ بتلائی جائے تو ہر ایک شریر سے شریر اپنے واسطے بچاؤ کا سامان کر سکتا ہے۔ اگر وقت کے نہ بتلانے سے پیشگوئی قابل اعتراض ہو جاتی ہے تو پھر تو قرآن شریف کی پیشگوئیوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہاں بھی اس قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ مَتی هَذَا الْوَعْدُ (یونس : ۴۹) یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ ہمیں وقت اور تاریخ بتلاؤ۔ مگر بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں تعین نہیں ہوتا ورنہ کافر بھی بھاگ کر بچ جائے ۔ فرمایا۔ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حوادث اور زلزلہ تو آیا ہی کرتے ہیں پھر یہ پیشگوئی کیا ہوئی ؟ قیامت تک زلزلہ اور حادثہ تو کوئی نہ کوئی آئے ہی گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں صریح الفاظ ہیں کہ یہ امر ہماری تائید میں اور ہماری زندی میں ہونے والا زندگی میں ہونے والا ہے جس کو اس زمانہ کے لوگ دیکھیں گے اور پھر تخصیص یہ ہے کہ یہ حادثہ ایسا سخت ہوگا جس کو نہ کسی نے پہلے دیکھا نہ سنا ۔ فرمایا۔ ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ عَفَتِ الدِّيَارُ مَحَلُّهَا وَ مَقَامُهَا ایک کافر کا شعر ہے جو آپ کو الہام ہوا۔ تو پھر یہ معجزہ کس طرح سے ہوا؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ اول تو خود قرآن شریف کی آیات مثلاً فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ