ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 152

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳ جون ۱۹۰۵ء ۱۵۲ جلد ہفتم اقم ہے۔ ا سعیدہ بیگم بعمر تین سال آٹھ ماہ بعارضہ بچوں کی وفات پر صبر کی تلقین معجزات کیا کی سیدہ بیگم امر تین پر ام الصبیان فوت ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بمع جماعت باغ میں جنازہ پڑھا اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ اولاد جو پہلے مرتی ہے وہ فرط ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے رسول کریم سے عرض کی تھی کہ جس کی کوئی اولاد نہیں مرتی وہ کیا کرے گا ؟ فرمایا میں اپنی امت کا فرط ہوں۔ فرمایا ۔ آپ صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کے عوض میں لڑکا دے گا۔ صبر تو خواہ مخواہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ لڑکیوں کے معاملات بھی مشکل ہوتے ہیں ۔ الْخَيْرُ فِي مَا وَقَعَ ۔ فرمایا۔ لفظ انشاء اللہ تعالیٰ کہنے میں انسان اپنی کمزوری کا اظہار انشاء اللہ کہنے کا مقصد کرتا ہے کیا کرتا ہے کہ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں ۔ لیکن خدا نے توفیق دی تو امید ہے کہ کر سکوں گا۔ فرمایا ۔ جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہو جاتے ایمان کی جڑ نماز ہے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے۔ ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔ نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔ جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے؟ اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تمہاری طرف توجہ کرے۔ خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔ لے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتب)