ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 149

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۹ جلد ہفتم پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس میں بٹھا دیا اور اس کو چکر دینا شروع کیا۔ اتنے میں گھڑی گر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کو تلاش کر وایسا نہ ہو کہ محمد حسین نالش کر دے۔ نہیں فرمایا کہ خیال گذرتا ہے کہ شاید گھڑی سے مراد وہ ساعت ہے جو زلزلہ کی ساعت ہے جو معلوم واللہ اعلم ۔ اور وہ رحمت کی ساعت ہے یعنی یہ ساعت ہمارے واسطے رحمت الہی کا موجد الہی کا موجب ہوگی ۔ بلا تاریخ کے القول الطيب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی والدہ یہاں آئی ہوئی ہیں انہوں نے اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اور ان کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکر کیا۔ نے حضرت نے فرمایا۔ والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔ حدیث شریف خدمت والدین میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں ۔ ایک وہ جس نے رمضان پایا ۔ اور رمضان گزر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گذر گئے اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے ۔ والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام هم و غم والدین اٹھاتے ہیں۔ جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اٹھاتی ہے۔ کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔ چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو ما اس کو چھوڑ نہیں سکتی ۔ ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں ۔ ماسب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔ یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ کے القول الطیب کے زیر عنوان ڈائری پر گو کوئی تاریخ درج نہیں لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ یہ مئی کے آخری ایام یعنی ۲۷ تا ۳۱ رمئی ۱۹۰۵ء تک کے ملفوظات ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ (مرتب) ۔