ملفوظات (جلد 7) — Page 148
ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ٧ جلد ہفتم نہیں ڈال سکتے ۔ قرآن شریف میں اِنْ اَدْرِی اَقَرِيبٌ اَمْ بَعِيدُ مَا تُوعَدُونَ (الانبياء : ١١٠) میں نہیں جانتا کہ عذاب کے نزول کا وقت قریب ہے یا بعید ) صاف بتاتا ہے کہ ہر ایک عذاب کی مقررہ تاریخ نہیں بتائی جاتی ۔ کے ۲۷ رمتی ۱۹۰۵ء ایک جلیل القدر الہام عَبْدُ الْقَادِرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَرَى رِضْوَانَهُ اللَّهُ أَكْبَرُ - پہلی وحی کے متعلق فرمایا کہ خدا اپنی کچھ قدرتیں میرے واسطے ظاہر کرنے والا ہے۔ اس واسطے میرا نام عبدالقادر رکھا۔ رضوان کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ کوئی فعل دنیا میں خدا کی طرف سے ایسا ظاہر ہونے والا ہے جس سے ثابت ہو جائے اور دنیا پر روشن ہو جائے کہ خدا مجھ پر راضی ہے۔ دنیا میں بھی جب بادشاہ کسی پر راضی ہوتا ہے تو فعلی رنگ میں بھی اس رضا مندی کا کچھ اظہار ہوتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی رضا پر دلالت کرنے والے افعال دیکھتا ہوں ۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کی رضا بہت پیاری ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مومنین جب بہشت میں داخل کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو تو وہ عرض کریں گے کہ اے رب ! تو ہم پر راضی ہو جا۔ جواب ملے گا۔ اگر میں راضی نہ ہوتا تو تم کو بہشت میں کس طرح داخل کرتا ۔ ہے ۲۸ رمتی ۱۹۰۵ء شیخ رحمت اللہ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو کے ایک رویا دو پلڑے ہوتے ہیں مثل جھوروں کے بینگی کے۔ میں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں ۔ بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمتی ۱۹۰۵ ء صفحه ۶ بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحه ۲