ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 146

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد هفتم ساتھ ضد کرتے ہیں ورنہ یہ محاورہ سب زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے اسی مجلس میں کہا تھا کہ میں تو مر گیا۔ باوجود عیسائی ہونے کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ ڈرتا رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ ابولہب کے متعلق صاف پیشگوئی مکہ میں کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ حالانکہ وہ جنگ بدر کے بعد طاعون سے مرا تھا۔ فرمایا۔ روح وریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مبارک منہ کے مبارک الفاظ معناً ( مرقومه شیخ عبدالرحیم صاحب ) بوقت و بجے آپ باہر تشریف لائے ۔ شیخ رحت اللہ صاحب نو وارد اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب محفل موجود تھے ۔ ادھر ادھر کی باتوں میں آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کئے مگر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی ۔ خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب : (۲۴) یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھا دیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقع ملے اور سرخرو ہوں اور انہوں نے کبھی کم ہمتی اور بزدلی نہیں دکھائی ۔ سب سے بڑھ کر راحت دعا کے متعلق آپ نے فرمایا کہ ادھر کی جاتی ہے اور ادھر جواب ملتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۸ مورخه ۲۵ رمئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۴ ، ۵ ( معلوم ہوتا ہے یہ پرچہ ۲۸ مئی کے بعد شائع ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ۲۶ رمئی تا ۲۸ رمئی کی ڈائری اس میں چھپی ہے۔ مرتب ) کے اس ڈائری پر تاریخ نہیں لکھی۔ انداز ۲۴۱ تا ۲۶ مئی ۱۹۰۵ ء کی معلوم ہوتی ہے۔ ان دنوں میں شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان میں موجود تھے ۔ (مرتب)