ملفوظات (جلد 7) — Page 121
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد ہفتم کی دکھ دہی اور مصائب سے بہت ستائے گئے ہیں ۔ کسی نے خبر سنائی کہ بہا گسو میں کئی سو مر گئے اور جو باقی ہیں وہ بھوکھ سے مر رہے ہیں ۔ اور سبحان پور میں بڑی تباہی آئی لیکن احمدی جماعت کا آدمی وزیر الدین ہیڈ ماسٹر بچ گیا۔ فالحمد لله فرمایا ۔ یہ نشان تو صرف ایک بیج بویا گیا ہے اور تخم ریزی ہے اور دوسرانشان اس سے بڑھ کر ہوگا ۔ کفار میں بھی سعید فطرت ہوتے ہیں ۔ آخر ہنود بھی اس طرف توجہ کریں گے ۔ ۱۶ را پریل ۱۹۰۵ء امام الصلوۃ کے لیے ہدایت کسی شخص نے ذکر کیا کہ فلاں دوست نماز پڑھانے کے وقت بہت لمبی سورتیں پڑھتے ہیں۔ فرمایا ۔ امام کو چاہیے کہ نماز میں ضعفاء کی رعایت رکھے۔ ایک اخبار انگریزی کا مضمون حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ محققین حیران ہیں کہ ان پہاڑوں سے یہ امید نہ تھی ۔ فرما یا عقلمندوں کو کس طرح خدا حیران کرتا ہے۔ ان ملکوں میں آتش فشانی کی کبھی امید نہ تھی بلکہ یہ پہاڑ امن کا سلسلہ سمجھا جاتا تھا۔ ہے ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ء فرمایا۔ براہین احمدیہ میں ایک الہام یہ بھی اس زمانہ کے مسلمانوں سے خطاب درج ہے اَم حَسِبْتُمْ أَنَّ أَصْحُبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ أَيْتِنَا عَجَبًا اس میں اس زمانہ کے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ تم اصحاب کہف کے قصہ ل کے بدر جلد نمبر ۳ مورخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۲